مطلع صاف ہے واشنگٹن
10.0°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
جمعرات اپریل

یوم یکجہتی کشمیر

اسرار احمد راجہ :

5فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر کا دن ہے کہ اس روز اہل پاکستان محکوم و مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر کا سلسلہ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے شروع کیا جسے اس وقت کی وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا۔ 5فروری 1990ء میں یہ دن پورے جوش وجذبے سے منایا گیا، ملکی سطح پر سیمینارز، جلسے اور جلوس منعقد کئے گئے جبکہ دنیا بھر میں تارکین وطن نے یہ دن مناکر اس دن کی اہمیت کو عالمی سطح پر اُجاگر کیا۔
5فروری کی ایک اپنی اہمیت ہے اور ہر سال اہل پاکستان کو یاددہانی سی ہوجاتی ہے کہ دنیا بھر میں حل طلب مسائل میں ایک مسئلہ کشمیر کا بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 5فروری 1990ء کے بعد اس دن کو منانا محض رسمی اہمیت کا حامل ہے یا پھر اس دن کے منانے کا کچھ فائدہ بھی ہوا ہے۔ اگر ہم فوائد کی طرف دیکھیں تو مظلوم اور محکوم کشمیریوں کو اس دن کا کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں، بیورو کریسی، کشمیر کونسل اور وزارت امور کشمیر سمیت کشمیر کمیٹی کے چیئرمینوں کو کافی فائدہ ہوا ہے۔
5فروری کی آڑ میں ہر سال آزاد حکومت کروڑوں روپے جلسے، جلوسوں اور سیمینارز پر خرچ کرتی ہے ان تقریبات کا خرچ کم آتا ہے مگر اسکی آڑ میں قومی خزانے پر لمبا ہاتھ مارا جاتا ہے۔ آزاد حکومت کے وزیر، مشیر اور سرکاری اہلکار جو کہ ہر طرح کے اخلاقی اور قانونی ضابطوں سے بھی آزاد ہوتے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں یکجہتی بزنس کے پنڈال سجاتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور پھر رٹی رٹائی تقریریں پڑھ کر کھایا پیا ہضم کرکے اگلے یوم یکجہتی کا انتظار شروع کردیتے ہیں۔ کشمیر کونسل اور وزارت امور کشمیر کا بھی یہی حال ہے، کشمیر کونسل مال کمانے اور دوستوں یاروں کو نوازنے کا ادارہ ہے ۔ گزشتہ برس یوم یکجہتی سے پہلے ہی آزاد خیال کشمیریوں کے سلطنت کے لیڈروں نے سوچا کہ کیوں نہ اس روز کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے آزاد خطہ کے عبوری آئین میں تبدیلی کرلی جائے اور کشمیر کونسل کے ممبران کی تعداد بڑھاکر سرحد پار بسنے والے کشمیریوں کے خون کا سودا کرنے کیلئے جیالوں اور متوالوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا جائے۔
آزاد کشمیر کے سنجیدہ طبقے کا ہمیشہ سے ہی 1973ء کے عبوری آئیں پر اعترض رہا ہے چونکہ یہ آئین آزاد کشمیر کے عوام کی خواہشات کا آئینہ دار نہیں اور نہ ہی یہ آئین تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک مکمل اور مستحکم دستاویز ہے۔ 1973ء کا عبوری آئین سابق وزیراعظم پاکستان جناب زوالفقار علی بھٹو مرحوم کی خواہش پر ان کے وزیر قانون حفیظ پیرزادہ نے لکھا اور ایک گھنٹے کی رسمی بحث کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے اس آئین کو تسلیم کرلیا۔ اس عبوری آئین کی خاص بات کشمیر کونسل کا قیام ہے جسے آزاد کشمیر کے سنجیدہ حلقے اور سیاسی شعور اور بیداری کے حامل افراد غلامی کی زنجیر تصور کرتے ہیں۔
ہم نے بارہا آزادی بزنس کے ڈیلروں اور ان کے کارندوں سے سنا ہے کہ وہ برسراقتدار آکر کشمیر کونسل کی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرلینگے مگر عملًا سبھی اس طوق غلامی کو روزی روٹی کا تمغہ تصور کئے سینوں پر سجانے کیلئے بے تاب رہتے ہیں۔ کشمیر کونسل کے زریعے ہر سال کروڑوں روپے ہڑپ کئے جاتے ہیں اور سیاسی پارٹیاں اپنے ممبران کی وساطت سے اپنا اپنا حصہ لے کر ایک بار پھر کشمیر کونسل کے خاتمے کا نعرہ لگاتی ہیں۔ کشمیر کونسل کے ممبران میں اضافہ بھی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے چونکہ کچھ ریٹائرڈ ججز، برادری میٹوں اور بزنس پارٹنرز کو ایڈجسٹ کرنے اور قومی خزانے کی تقسیم سے انہیں حصہ دینے سے ضروری ہے کہ انہیں اسمبلی یا پھر کشمیر کونسل کی ممبری سے نوازا جائے۔
کچھ کے چاچے اور مامے بھی بیروزگار بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں میں کس طرح اضافہ کیا جائے تاکہ پندرہ بیس رشتہ داروں اور برادری کے انوسٹرز کو نوازا جائے۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ اس ساری منصوبہ بندی اور بندر بانٹ میں پاکستان کی سرخیل سیاسی جماعتیں اور انکے عہدیدار شامل ہوتے ہیں چونکہ وہی اس لوٹ کھسوٹ کے بڑے فوائد حاصل کرتے ہیں۔
دیکھا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی یکجہتی ہی ہے اور اسی یکجہتی کی آڑ میں 5فروری والی یکجہتی بھی منائی جاتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو یکجہتیوں کی فہرست گنوانے لگیں تو ایک اور راج ترنگنی مرتب ہوجائے، آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن بھی اس یکجہتی کا حصہ ہیں جسے وٹو فارمولہ اور کائرہ پلان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یکجہتی اور یگانگی کا اندازہ لگائیے کہ آزاد کشمیر کے حلقہ نمبر4 میں کل ووٹوں کی تعداد تقریبا 40 ہزار ہے جبکہ جیتے ہوئے جیالے نے بارہا بیان دیا کہ اسے 55 ہزار ووٹ ملے ہیں جوکہ ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ بیشک یہ واقعی تاریخی کارنامہ ہی ہے کہ جمہوریت کی برکت اور حکومت پاکستان کی کشمیریوں سے یکجہتی کا غلغلہ سن کر پندرہ ہزار مردوں نے قبروں سے اُٹھ کر جناب زرداری صاحب کے چہیتے اور وٹو کے ہمزاد وہم خیال کو ووٹ دیئے اور پھر واپس اپنی قبروں میں چلے گئے۔ ایسا ہی بیان جناب کائرہ کے عزیز الجان جناب بڈھانوی نے دیا کہ انہیں پچیس ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے مخالف کو سترہ ہزار ووٹ ملے ہیں۔ موصوف نے نجی ٹیلیویژن چینل کے اینکر پرسن کے ایک سوال پر جواب دیا کہ انکی برادری جاگ اُٹھی ہے اور یہ ووٹ انکی برادری کے ہیں۔ اینکر نے پوچھا کہ حضور آپ کے حلقے میں کل ووٹوں کی تعداد ہی پچیس ہزار ہے تو مخالف امیدوار کو سترہ ہزار کہاں سے ملے۔ ظاہر ہے کہ یہ ووٹ بھی یکجہتی کے تھے اور برادری صرف نکیال میں ہی نہیں بلکہ گجرات، جہلم اور گوجرانوالہ تک جاگ رہی تھی۔ اب اسی یکجہتی کو دوام بخشنے کیلئے آزاد کشمیر کے ان باشندوں کو جو پاکستان میں نوکریاں کرتے ہیں، بستے ہیں کاروبار کرتے ہیں کو پاکستان میں ووٹ کا حق دے دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا ہر دوسرا شخص پاکستان میں رہتا ہے۔ اگر برادریاں اسی طرح جاگتی رہیں اور لیڈروں کے کشف القبور کے علم میں اضافہ ہوتا رہا تو کیل سے چھمب تک سارے مردے اپنے زندوں سے پہلے ووٹ ڈالنے آئیں گے اور کوئی جیالہ اور متوالہ کبھی بھی پاکستان میں الیکشن نہیں ہارے گا۔ ایسی ہی ایک یکجہتی شملہ میں ہوئی تھی جس کی برکت سے مسئلہ کشمیر عالمی فورم سے اٹھا کر پاکستان اور بھارت کی باہمی پنچائیت کے حوالے کردیا گیا۔ ایک یکجہتی جناب زرداری صاحب نے بھی کی ہے جسے آزاد کشمیر میں ان کی جماعت جوکہ آجکل شاہی حکمران جماعت ہے نے بخوشی قبول کرلیا ہے۔ یہ یکجہتی گلگت بلتستان کو کشمیر سے کاٹ کر علیحدہ صوبہ بنانے اور وہاں اپنا راج قائم کرنے کی صورت میں ہے جوکہ معاہدہ کراچی، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس سلسلے میں جسٹس(ریٹائرڈ) منظور گیلانی نے اپنے مضامین کے زریعے جوکہ روزنامہ نوائے وقت میں تفصیل وار چھپے کے علاوہ کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ مگر حال ہی میں منظور گیلانی صاحب نے آذاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے متعلق بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ یہاں صرف مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ جب ہر کسی کے منہ میں اختیارات، اقتدار اور مفادات کی ہڈی ہو تو اعتراض کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔ جب اسلام آباد میں کرپشن اور لوٹ مار کی کمائی سے تعمیر کردہ عالیشان کوٹھیوں اور قیمتی کاروں کے چھن جانے اور اعلیٰ ترین معیار زندگی میں فرق آنے کا اندیشہ ہو تو اعتراض و انکار کرنے والے کو گنہگار سمجھا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی دنیا کی واحد اسمبلی ہے جس میں مشائخ کی نشست بھی ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ شیخ روحانیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ شیخ کی پہچان علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں کروائی ہے کہ یہ وہ ہستی ہے جس سے خدا خود پوچھتا ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔
عارف کھڑی حضرت میاں محمد بخش نے شیخ کے رتبے اور فضیلت کے بیان میں فرمایا کہ انکی نظر کیمیا ہوتی ہے مگر آزاد کشمیر اسمبلی کی نشست جیتنے کیلئے ہمارے شیخوں کی حیثیت سبزی منڈی والے چیخوں کی سی ہوجاتی ہے۔ اسمبلی میں علماء ومشائخ کی سیٹ پر براجمان شیخ صاحب نے اپنے مریدوں کا اکٹھ کیا اور پوچھا کہ جب موت قریب ہوتی ہے تو قریب المرگ شخص کے سرہانے بیٹھ کر کیا پڑھا جاتا ہے؟ بیچارے مریدوں نے کہا حضور سورة یٰسین، پھر فرمایا مصیبت کہ وقت کیا کرتے ہو؟ بے بس مریدوں نے کہا حضور جب کوئی ظاہری ومادی وسیلہ نہ ہو تو سورة یٰسین، پیر طریقت جو کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار تھے اور مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر پانچ سال تک وزارت کے مزے لوٹتے رہے تھے پر واقعی مرگ الاقتدار طاری تھی اور اگلے پانچ سال اسمبلی سے باہر گزارنا ایک مشکل اور مصیبت ہی تھی اس لئے فرمایا کہ اگر سورة یٰسین پڑھتے ہو اور میری ولایت پر یقین رکھتے ہو تو مسٹر یٰسین کو ووٹ دے دو۔
حضور یہ ہے اصل یکجہتی ورنہ کوئی عام آدمی ایسی حرکت کرتا تو اس پر توہین قرآن اور توہین اسلام فتویٰ جاری کردیا جاتا اور وہ اسمبلی کی بجائے بن خرماں جیل میں ہوتا۔ مگر قربان جاؤں ان یکجہتیوں کے حضرت مولانا فضل الرحمن جیسا جید عالم اور شیخ المشائخ پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے یکجہتی کے طفیل کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور اب مسلم لیگ ن کی ڈور پکڑ کر اس عہدہ پر براجمان ہیں جنہیں کشمیر سے کم اور کشمیر ہاؤس سے زیادہ لگاؤ ہے۔ اگر سیاستدانوں میں یکجہتی ہوسکتی ہے تو علماء ومشائخ میں کیوں نہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ہی مدرسوں کے گریجویٹ ہیں اور آزاد کشمیر والے شیخ بھی۔ کتنی مماثلت ہے ان یکجہتیوں میں۔ سنا ہے کہ آزاد کشمیر والے شیخ کی ڈگریوں پر خود شیخ کے ہی دستخط ہیں۔ اب پتہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے شیخوں کے پاس ان کی جاری کردہ ڈگریاں ہونگی۔ یکجہتیوں کی فہرست طویل ہے جسے بیان کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس فہرست میں سرفہرست مہاجرین مقیم پاکستان کی سیٹیں ہیں جن کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ کراچی کی دو نشستوں پر ایم کیو ایم نے بذریعہ یکجہتی قبضہ کرلیا ہے اور سوچ بچار ہورہی ہے کہ کراچی میں دوسیٹوں کی مزید گنجائش پیدا کردی جائے تاکہ ایک مستقل سیٹ پیپلزپارٹی اور دوسری اے این پی کیلئے وقف رہے۔ اسی طرح پنجاب، بلوچستان، گلگت اور پشاور میں دو دو نشستیں بھی زدخیال ہیں جبکہ علماء ومشائخ کی سیٹوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔ علماء ومشائخ کی ایک سیٹ جس کا اہتمام مجاہد اول کیلئے کیا گیا تھا انکی بیماری کی وجہ سے ڈانواڈول رہتی ہے۔ مجاہد اول کے بعد مسلم کانفرنس کو جو شیخ صاحب دستیاب تھے وہ ہر الیکشن کے بعد پارٹی بدل لیتے ہیں۔ اب ڈر ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے وہ کسی دوسری سورة کا ورد شروع کردیں۔ ضروری ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں چار شیخ موجود ہوں جن کا تعلق مسلم کانفرنس، نون لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم سے ہو۔ شکر ہے کہ جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، اے این پی اور تحریک انصاف روحانیت پر زیادہ زور نہیں دیتیں ورنہ آزاد کشمیر کے عوام پر یکجہتیوں کا مزید بوجھ بڑھ جاتا۔
کشمیر جو جنت نظیر کہلاتا تھا اب جہاں ظلم اور برباریت کی انتہا ہے اورکوئی پرسان حال نہیں۔ ایک طرف سے دوستی ،کاروبار اور فیورٹ نیشن کی پیشکشیں اور دوسری طرف سے لاشوں کے تحفے آئے روز ملتے ہیں۔ کشمیر میں ہر روز کسی فرد یا خاندان پر قیامت بن کے گزرتا ہے ایسی ہی ایک رپورٹ ایک بین الاقوامی ادارے نے شائع کی کہا گیا کہ سعیدہ بیگم کے لیے کشمیر ایک میدان جنگ ہے، جس میں ان کا سب کچھ لٹ گیا وہ ایک غسل خانے سے بھی تنگ کوٹھری میں رہائش پذیرہے۔ 40 سال قبل سعیدہ کے خاوند ایک حادثہ میں ہلاک گئے تھے۔ وہ سسرال میں موجود جائیداد سے بے دخل ہوگئیں اور چار چھوٹے چھوٹے بیٹوں کو لے کر سرینگر میں اپنے میکے آئیں جہاں انہیں ایک کوٹھری دی گئی۔بیٹے جوان ہوئے، کمانے لگے لیکن 1990 میں جب مسلح شورش شروع ہوئی تو ان کے تین بیٹے دو سال کے عرصے میں یکے بعد دیگرے تشدد کی مختلف وارداتوں میں ہلاک ہوگئے۔ اس صدمے کی وجہ سے ان کا چوتھا بیٹا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور بالآخر لاپتہ ہوگیا۔ سعیدہ اشک آور لہجے میں کہتی ہیں: یہاں جنگ نہ ہوتی تو میں آج محتاج نہ ہوتی۔ میرے تو چار بیٹے تھے، میں ایک روٹی کے لیے کیوں ترستی اس جنگ میں سب کچھ ختم ہوگیا۔سعیدہ جیسی ہزاروں خواتین کشمیر میں کشمیر کی جنگ سے متاثر ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسی خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہوگئے۔ انہیں اب ہالف وڈو یا نصف بیوہ کہا جاتا ہے۔ انہیں نہ توسسرال میں پناہ ملتی ہے نہ میکے میں۔ سعیدہ جیسی ہزاروں مائیں بھی ہیں جو اس جنگ زدہ سماج میں اپنے آپ کو تن تنہا پاتی ہیں۔مگر آزاد کشمیر میں آزادی بیس کیمپ والوں کو کیا خبر جن کی راتیں اور دن نشے میں چور گزرتی ہیں۔ نشہ عوام کے ووٹ کا ہو یا انگور کی بیٹی کا دونوں ہی انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں۔
اب ایک نظر عالمی منظر نامے پر نظر بھی ڈالتے ہیں، بھارت کو جو خطرہ اس وقت محسوس ہو رہا ہے وہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا مقبوضہ کشمیر میں جہاد پھر سے شروع ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں میر واعظ کا بیان بھی سامنے آیا جس میں دہشتگردوں کا افغان جنگ کے بعد کشمیر کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ ماضی میں ایسا دیکھا گیا ہے کہ جہادی گروپوں نے اپنے ٹھکانے تبدیل کیے ہیں جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد پنجابی طالبان کے نام سے مشہور عسکریت پسند اپنی توجہ کشمیر کی جانب کر سکتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات اور ہونے والی جنگوں کی وجہ سے لگنے والے زخم اتنے گہرے ہیں جن کا جلدی مندمل ہونا قدرے مشکل ہے۔اگرچہ دونوں ممالک کشمیر کے تنازعے کا حل چاہتے ہیں مگر وہ یہ بھی چاہیں گے کہ برسوں سے جاری خونریزی اور پراکسی فورسز پر خرچ کی جانے والی رقم کے کوئی مناسب نتائج بھی حاصل ہوں۔اس سوال کے جواب کے لیے ذرا خطے کی صورتحال کے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب معیشت ہی پالیسی بنانے کا ماخذ ہوگا اسی لیے پاک بھارت تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دو طرفہ تجارت فروغ پائے۔دونوں ملکوں کے بہتر تعلقات کی وجہ سے خطے میں استحکام آئے گا اور نتیجے میں چین اور دیگر ممالک سرمایہ کاری کریں گے۔چین پہلے ہی سے پاکستان میں ایک اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان اور جنوبی و وسطی ایشیا میں اپنے مفادات کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کے لیے چین نے خطے میں امن و امان کی بہتر صورتحال پر زور دیا ہے۔ مگر کیا امریکہ بھی اس حل کے لیے راضی ہو گا ؟یہ سوال سب سے اہم اور معنی خیز ہے ۔
کشمیر کے مسئلے کے حل میں عالمی برادری سے مداخلت کرنے کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مطالبے کو خارجہ سلمان خورشید نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ایک ایسے سوال پر جسے شملہ معاہدے میں دونوں ملکوں نے ایک باہمی تنازع تسلیم کیا ہے اس کے بارے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جبکہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
سابق سفیر عارف کمال کا کہنا ہے کہ کشمیر اب ایک علاقے کو اپنے ساتھ ملانے کا جھگڑا نہیں ہے بلکہ سولہ ملین لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے جو اب اپنے مسئلے کے حل کے لیے دہلی اور اسلام آباد سے باہر جانا شروع ہو گئے ہیں۔اس صورتحال کو نظر میں رکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔ اسی لیے پاکستان اور بھارت کی حکومت کو دہشتگردگروپوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور معیشت اور امن کی فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہو گی ۔
کشمیری حکمران اگر صرف دن منانے اور کشمیریوں کے خون پر سیاست کرتے رہے تو آنے والے دنوں میں حالات مزید ابتر ہوں گے۔ جس طرح کی یکجہتیوں کا موسم آزاد کشمیر پر چھایا ہوا ہے اس کے طور طریقے ظاہر کرتے ہیں کہ اس سے کشمیر تو آزاد نہیں ہوگا مگر آزاد کشمیر دو چار سالوں کی مار ہے۔ اگر پیپلزپارٹی پاکستان میں اب کی بار برسراقتدار آ جاتی تو اصول یکجہتی کے تحت آزاد کشمیر پاکستان کا چھٹا صوبہ ہوجاتا اور مسئلہ کشمیر فوراً حل ہوجاتا۔ اور مشرف فارمولہ سے بھی کچھ آگے کی سوچ رائج ہو جانی تھی جسے مظلوم کشمیریوں نے سر تسلیم خم کرنا تھا۔ مگر ایسا نہ ہوا لیکن اس سلسلے میں میاں صاحبان بھی کم نہیں ، جبکہ آزاد کشمیر جو صرف نام کی حد تک آذاد ہے ، حقیقتاً یہاں کے حکمران زہنی طور پر غلام ہیں اس لیے آزاد کشمیر کے حکمرانوں سے چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ یا مسلم کانفرنس کوئی بیعد نہیں کہ کیا کر لیں، ہوسکتا ہے کہ یہ یوم یکجہتی ہمارا آخری یکجہتی ہو اس لئے اسے جی بھر کر منائیے اور اظہار یکجہتی کیجئے۔ چونکہ راجہ فاروق حیدر ، بیرسٹر سلطان کو بھی چوہدری مجید،سردار یعقوب اور سردار عتیق کی طرح اقتدار اچھا لگتا ہے۔ اور اس کے لیے آزاد کشمیر کو گلگت بلتستان جیسا سٹیٹس دلوانا کوئی بڑا مسلہ نہیں ہو گا۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-02-06

کالم نگار     :     اسرار احمد راجہ

اسرار احمد راجہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-