جماعت اسلامی کا اکتوبر میں صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع منعقد کرنے کا اعلان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جون

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:57:59 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:56:33 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:51:14 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:49:54 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:45:02 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:36:47 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:36:47 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:36:47 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:35:32 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:35:32 وقت اشاعت: 02/06/2016 - 20:30:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

جماعت اسلامی کا اکتوبر میں صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع منعقد کرنے کا اعلان

21تا23اکتوبر کو ہونے والے اجتماع میں مردو خواتین کی ریکارڈ تعداد شریک ہو گی،انتظامات بھی مثالی ہوں گے، مشتاق احمد خان

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔02 جون۔2016ء)جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان نے اکتوبر میں صوبہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع منعقد کرناکا اعلان کیا ہے۔جمعرات کو المرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 21،22اور23اکتوبر کو اضاخیل ضلع نوشہرہ میں منعقد ہونے والااجتماع ملک کو جدید اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے میں سنگ میں ثابت ہوگا اوراس میں خیبرپختونخوااور فاٹا سے لاکھوں لوگ شرکت کریں گے جن میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوں گے جن میں نوجوان ،خواتین بوڑھے،کسان اور مزدوروں کی بہت بڑی تعداد ہوگی۔

پریس کانفرنس میں صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالواسع، سیکرٹریاطلاعات محمد اقبال اور ڈپٹی سیکرٹری مولانا ہدایت اﷲ بھی موجود تھے ۔جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجتماع عام کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالواسع کی سربراہی میں پروگرامات کی کمیٹی اور ضلع پشاور کے امیر صابر حسین کی سربراہی میں انتظامات کی کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اجتماع پروگرامات،انتظامات،حاضری،رہائش ،طعام اور سیکورٹی سمیت ہر لحاظ سے مثالی اجتماع ہوگا اور صوبہ کی تاریخ میں اس جیسا بڑا اور مثالی اجتماع اب تک کسی نے کیا ہے نہ سنا ہوگا۔مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجتماع عام میں جماعت اسلامی کی مقامی، قومی اور بین الاقوامی قیادت شرکت کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس اجتماع سے صوبہ میں امن کی فضا کو تقویت ملے گی ۔

ہمارا صوبہ گزشتہ ڈیڑھ عشرہ سے انتہائی بدامنی کا شکار رہا ہے۔اس تاریخی اجتماع سے امن کا پیغام عام ہو گا اور جمہوری روایات میں پختگی آئے گی۔ جمہوری اداروں کو استحکام ملے گا اور اداروں پر لوگوں کا اعتماد بڑھے گا۔مشتاق احمدخان نے کہا کہ اس اجتماع سے اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہو گی۔اس میں جوان،بوڑھے، مردو خواتین اور طلبہ سمیت معاشرہ کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کریں گے جس سے لوگوں کے مسائل اجا گر ہوں گے اورمسائل کے حل کے لیے رہنما خطوط متعین کیے جائیں گے۔

مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجتماع عام سے پاکستان کے نظریاتی تشخص کو تقویت ملے گا۔دستور پاکستان کے تحت قرآن و سنت کے منافی قوانین کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کو فروغ ملے گا۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اسلام اورقرآن و سنت کی فضا پہلے سے موجود ہے اس کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ پاکستان کو درپیش خطرات سے نجات حاصل کرنے کے لیے اجتماع اہم سنگ میل ثابت ہو گا ۔

سب سے بڑا خطرہ کرپشن ہے۔اس کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک پہلے سے جاری ہے اور اس کو ہر طبقہ اور ادارے کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔اجتماع عام کاکردار اس حوالے سے انتہائی اہم ہوگا اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایاجائے گا۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجتماع عام کے نتائج کے حوالے سے پاکستان کو جدید فلاحی ریاست بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہوگی ۔

ہم ایک ایسے پاکستان کی جانب پیش قدمی کریں گے جہاں پر ترقی اور خوشحالی ہوگی اور ہر شہری کو تمام بنیادی حقوق سمیت جدید سہولیات دستیاب ہوں گی ۔تعلیم مفت اور عام ہوگا۔علاج کی سہولت ہر شہری کو دہلیز پر حاصل ہوگی۔ چادر اور چاردیواری کا تحفظ حاصل ہوگا اور تمام شہریوں کو چھت مہیا ہو گی۔انھوں نے کہا کہ بڑے عوامی اجتماعات کا کامیاب انعقاد جماعت اسلامی کی تاریخ ہے اور اس بار تعدادکے حوالے سے نئی تاریخ رقم کی جائے گی جبکہ رہائشی،انتظامی اور پرگرامات کے لحاظ سے یہ ایک تاریخی اور مثالی اجتماع ہو گا۔

مشتاق احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی ایک منفرد تاریخ کی حامل جماعت ہے۔اس کی نمایاں خصوصیات میں اس کا دستور سب سے اہم ہے۔اس کا طریقہ کار دستور کے مطابق اور ہر سطح پر جمہوری ہے اور جمہوریت پر پورے روح کے ساتھ عمل درآمد ہوتا ہے ہر سطح کی قیادت کا باقاعدہ طور پر طے شدہ مدت کے لیے انتخابات منعقدہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو دوسری جماعتوں سے ممتاز کرنے والی ایک اور خصوصیت اس کی شفافیت ہے۔

پاکستا کی 68سالہ تاریخ میں جماعت اسلامی کے ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد سرکاری اور عوامی مناصب پر فائز رہے ہیں اور کسی ایک فرد کے دامن پر کرپشن کا داغ نہیں۔اس لیے ہم ہی نے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کر رکھی ہے دوسری جانب سماجی خدمت کے میدان میں جماعت اسلامی سب سے آگے ہیں۔انسانی اور قدرتی آفات میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے سب سے پہلے جماعت اسلامی کے رضاکارا لخدمت فاؤنڈیشن کی صورت میں سب سے آگے ہو تے ہیں۔

ہمار اخدمت کا نٹ ورک سب سے منظم اور مظبوط ہے اور عوام و خواص اس بات کا اقرار کرتے ہیں ا ور جماعت اسلامی پر اعتماد کرتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ اکتوبر کے بہت بڑے اجتماع کی تیاریوں کے لیے عوام نہ صرف اپنی شرکت کو یقینی بنائیں بلکہ ہمارے ساتھ مالی تعاون بھی کریں۔یہ اجتماع جدید اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا۔

02/06/2016 - 20:36:47 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان