` خیبر پختونخوا پن بجلی کے ذخائر سے مالا مال صوبہ ہے،شکیل درانی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مئی

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:36:21 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:28:45 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:28:44 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:28:44 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:27:12 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:27:12 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:27:11 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:25:04 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:22:05 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:22:05 وقت اشاعت: 17/05/2016 - 20:02:52
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

` خیبر پختونخوا پن بجلی کے ذخائر سے مالا مال صوبہ ہے،شکیل درانی

نئی پاور پالیسی 2016ء کے باعث توانائی کے منصوبوں میں حائل رکاوٹیں بڑی حد تک کم ہوجائیں گی، پیڈوکے 13ویں بورڈ آف ڈائریکٹرزکے اجلاس سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مئی۔2016ء)سابق چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پن بجلی کے ذخائر سے مالا مال صوبہ ہے ۔ملک میں جاری توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے صوبے کے پن بجلی ذخائر کوزیادہ سے زیادہ استعمال میں لا یا جارہاہے ۔حال ہی میں نئی پاور پالیسی 2016ء کی منظوری دی گئی ہے جس کے باعث توانائی کے منصوبوں میں حائل رکاوٹیں بڑی حد تک کم ہوجائیں گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن( پیڈو) کے 13ویں بورڈ آف ڈائریکٹرزکے اجلاس صدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین پیڈو بورڈ شکیل درانی کے علاوہ بورڈ کے دیگر ممبران سیکرٹری توانائی وبرقیات انجینئرنعیم خان،ایڈیشنل سیکرٹری ہوم شاہد اﷲ، سینٹرنعمان وزیر،پیسکوچیف انواریوسفزئی،سردارطارق،یونس مروت،غلام سرور مہمند،روحیل اکرم،شاہد ستاراورپیڈوچیف ایگزیکٹواکبر ایوب خان نے شرکت کی۔

اجلاس میں چیف ایگزیکٹوپیڈو اکبر ایوب خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں ملکی وغیر سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حال ہی میں نجی شعبے کے ذریعے پن بجلی کے6منصوبے اخبارات میں مشتہیر کئے گئے جن میں ارکاری گول( چترال)99 میگاواٹ ،ناران ڈیم( مانسہرہ ) 188 میگاواٹ،شیگوکچ( لوئیردیر ) 102 میگاواٹ،گور بند ( شانگلہ ) 21 میگاواٹ،بٹہ کنڈی ( مانسہرہ ) 96 میگاواٹ،نندی ہار( بٹگرام ) 12میگاواٹ شامل ہیں۔

ابتدائی طورپر سرمایہ کاروں کی طرف سے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 518 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی ۔اسکے علاوہ بجلی کی نعمت سے محروم صوبے کے 12 اضلاع کے مختلف علاقوں میں کمیونٹی کی شراکت سے 356 چھوٹے پن بجلی گھر تعمیرکئے جارہے ہیں جن میں سے37بجلی گھر مکمل کرلئے گئے ہیں ان پر لاگت کا تخمینہ 5.524 ارب روپے لگایا گیا جو کہ سال 2017 ء میں مکمل ہونگے ۔

ایشیائی ترقیاتی بنک کے مالی تعاون سے منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشنز کی تعداد بڑھاکر1000کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پیڈو نے شمسی توانائی کے 2منصوبوں پرکام جاری کررکھاہے جن میں5650گھروں میں پینل کی تنصیب اور خیبرپختونخواکے200گاؤں میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں214میگاواٹ کے پن بجلی کے6منصوبوں پرکام جاری ہے جو پیڈو کی تاریخ میں اتنے بڑے پیمانے پر کام ہورہاہے ۔

رواں سال 56میگاواٹ کے تین منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے۔اجلاس میں پیڈوکے انتظامی امورپر بھی غوروخوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سوات میں84میگاواٹ کے مٹلتان ہائیڈور پاور پراجیکٹ پرکام شروع کرنے کی منظوری دی گئی ۔پیڈوبورڈ کو بتایا گیا کہ جلد ہی 2مزید پن بجلی کے منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا جائے گا۔پیڈوبورڈ ممبران نے صوبے میں جاری توانائی منصوبوں پر کام کی رفتارپر اطمینان کا اظہارکیا۔

17/05/2016 - 20:27:12 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان