حکومت صوبے کے عظیم ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ اور فروغ کیلئے اقدامات اٹھا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مئی

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:16:08 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:16:08 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:16:08 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:12:21 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:12:20 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:12:20 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:10:38 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:10:38 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:10:37 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:08:59 وقت اشاعت: 14/05/2016 - 20:08:59
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

حکومت صوبے کے عظیم ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ اور فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے،پرویزخٹک

صوبہ میں پہلی بار ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کو تاریخی ورثہ کی تحقیق اور تحفظ میں شامل کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے دور غلامی اور آزادی کے بعد بھی صوبے کو قیمتی آثار سے محروم کیا گیا ہے، صوبے اور قبائلی علاقوں میں آثار قدیمہ کی سروے شروع ہو چکا ہے جبکہ آثار قدیمہ کے مقامات کی کھدائی کیلئے اقدامات ہو رہے ہیں تا کہ غیر قانونی تلاش کا روک تھام ہو سکے،،وزیراعلی خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مئی۔2016ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے عظیم ثقافتی اور تاریخی ورثہ کے تحفظ اور فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے تا کہ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو صوبے کی سیاحت کی طرف راغب کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں خیبر پختونخوا میں آثار قدیمہ کی حالیہ تلاش اور خطے کی تاریخ پر اس کے اثرات کے موضوع پر سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی نشست سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس کا اہتمام صوبائی محکمہ ثقافت ، آثار قدیمہ اور عجائب گھر نے کیا تھا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ثقافت عجائب گھر عبدالصمد بھی موجود تھے۔ کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، اٹلی، کوریا، جرمنی اور افغانستان سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے شرکت اور تحقیقی مقالات پیش کئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ میں پہلی بار ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کو تاریخی ورثہ کی تحقیق اور تحفظ میں شامل کیا جا رہا ہے جوصوبائی حکومت کی تاریخی ورثے کے تحفظ اور نئی نسل تک اس کی بہتر انداز میں منتقلی کی کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں عام آدمی کے ساتھ محقیقین کیلئے بھی دلچسپی کے بے پناہ آثار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی دلکشی نے ہر دور میں فاتحین، علماء، تاجروں اور مذہبی رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دور غلامی اور آزادی کے بعد بھی صوبے کو قیمتی آثار سے محروم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/05/2016 - 20:12:20 :وقت اشاعت