تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا نام فٹ بال کے کسی بین الاقوامی ایونٹ میں سامنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مئی

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:51:28 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:51:23 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:46:08 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:41:57 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:41:53 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:40:15 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:40:09 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:40:04 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:12:30 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:12:27 وقت اشاعت: 13/05/2016 - 12:12:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کا نام فٹ بال کے کسی بین الاقوامی ایونٹ میں سامنے آگیا

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مئی۔2016ء)پاکستان میں فٹ بال کا کھیل ہمیشہ سے زورال کا شکار رہا ہے اور بین الاقوامی فٹ بال رینکنگ میں بھی پاکستان کا نام سب سے آخری درجوں میں آتا ہے۔تاہم اب پہلی مرتبہ پاکستان کا نام فٹ بال کے کسی بین الاقوامی ایونٹ میں سامنے آیا ہے لیکن یہ عام فٹ بال نہیں بلکہ مختصر دورانیے کے فٹ بال میں یا جسے عام طورپر ’فائیو اے سائیڈ فٹ بال‘ بھی کہا جاتا ہے۔

پشاور کی ایک مقامی گھوسٹ فٹ بال کلب نے اس طرز کے پاکستان میں ہونے والے ریڈبل ٹورنامنٹ جیت کر پہلی مرتبہ نیمار جونئیر فائیو ورلڈ فائنلز کیلیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ جولائی میں برازیل میں کھیلا جائیگا جس میں دنیا بھر سے 35 ٹیمیں شرکت کر رہی ہے۔ٹیم کے کپتان فواد اعلی شاہ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آرہا کہ پشاور کی ٹیم کسی بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہیکہ انٹر نیشنل سطح پر پہلے کہیں بھی فٹ بال کے حوالے سے پاکستان کا نام نہیں لیاگیا لیکن اب برازیل میں دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے سامنے کھیل کر ہم انھیں یہ بتا سکیں گے کہ ہمارے ملک میں بھی ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور ہم بھی فٹ بال میں ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔‘ ٹیم کے کپتان فواد اعلی شاہ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آرہا کہ پشاور کی ٹیم کسی بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کرے گیفائیو اے سائیڈ فٹ بال میں ہر ٹیم پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کھیل کیلیے کسی بڑے گراوٴنڈ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ مختصر سی جگہ میں کھیلا جاسکتا ہے۔

یہ فٹ بال عموماً ان شہروں میں کھیلا جاتی ہے جہاں بڑے بڑے میدانوں کا فقدان ہوتا ہے۔اس طرز کے کھیل کا دورانیہ بھی دس منٹوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں کھلاڑیوں کو زیادہ پھرتی دکھانی پڑتی ہے۔ اس کھیل کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس ٹیم پر گول ہوجاتا ہے انھیں ایک کھلاڑی کم کرنا پڑتا ہے اور اس طرح دو گولوں کے خسارے سے دو کھلاڑیوں کو باہر بٹھانا پڑتا ہے۔

پشاور کے گھوسٹ کلب نے پہلے پاکستان میں نیمار ریڈبل ٹورنمینٹ جیت کر نیمار جونئیر فائیو ورلڈ فائنلز برازیل کیلیے کوالیفائی کرلیا۔ پاکستان میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ملک بھر سے تقریباً 120 کے قریب ٹیموں نے شرکت کی تھی جس میں پشاور کی ٹیم سخت مقابلے کے بعد کامیاب قرار پائی۔فواد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں فٹ بال کا رحجان دیر سے شروع ہوا ہے لیکن فائیو اے سائیڈ فٹ بال یا فٹ سال کا کھیل نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتا جارہا ہے اور بالخصوص بڑے شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور میں نوجوان نسل اس میں بڑی دلچپسی لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح ان کی ٹیم نے بین الاقوامی مقابلے کیلیے کوالیفائی کرلیا اس طرح پاکستان کی عام فٹ بال بھی بہتر ہوسکتی ہے بشرطیکہ کہ حکومت توجہ دیں اور کھلاڑیوں کیلیے مواقع پیدا کیے جائیں۔

13/05/2016 - 12:40:15 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان