صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مئی

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:38:52 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:38:51 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:36:42 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:36:41 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:36:41 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:35:04 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:32:32 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:30:54 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:27:00 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:24:01 وقت اشاعت: 12/05/2016 - 22:24:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں اجلاس

وفاق کی طرف سے این ایف سی پر طلب کردہ ورکنگ پیپر جو تیار ہوچکے ہیں مرکز کو بھیجے جائیں،دیگر صوبوں سے بھی رابطے کئے جائیں اور اے پی سی کی تاریخ اور جگہ کا فوری تعین کیا جائے تاکہ مرکز کے پاس مزید تاخیر کا جواز ختم ہو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 مئی۔2016ء)خیبر پختوپختوا حکومت نے نویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کے ناگزیر اور آئینی تقاضے کی تکمیل میں حد درجہ تاخیر اور صوبے کی مسلسل حق تلفیوں سے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے نیز سندھ و بلوچستان سمیت باقی صوبوں سے مشاورت کیلئے نیا لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے وفاق کو ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ جاری رکھنے کی بجائے نویں این ایف سی ایوارڈ کیلئے اجلاس جلد بلانے اور صوبائی حقوق کی واگزاری یقینی بنانے پر آمادہ کرنے کیلئے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں اجلاس ہو اجس میں نئے ایوارڈ کے بارے میں پیشرفت اور صوبائی حکومت کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ اس ضمن میں سفارشات مرتب کی گئیں اجلاس میں سیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ، کنسلٹنٹ احتشام الحق اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ پروفیسر محمد ابراہیم خان سمیت کمیشن کے ممبران اور محکمہ خزانہ سے وابستہ سابق سینئر بیورو کریٹس نے بھی شرکت کی اور صوبے کو درپیش مسائل و مشکلات سے اگاہی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کا کیس موثر انداز میں پیش کرنے کیلئے تجاویز پیش کیں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی پر طلب کردہ ورکنگ پیپر جو تیار ہوچکے ہیں مرکز کو بھیجے جائیں،دیگر صوبوں سے بھی رابطے کئے جائیں اور اے پی سی کی تاریخ اور جگہ کا فوری تعین کیا جائے تاکہ مرکز کے پاس مزید تاخیر کا جواز ختم ہو مظفر سید ایڈوکیٹ نے ایوارڈ کے سلسلے میں مکمل حمایت پر اجلاس کا شکریہ ادا کیا تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز مالیاتی کمیشن سمیت صوبوں اور عوام کے حقوق کی ادائیگی انکے وسائل اور ضروریات کی بنیاد پر یقینی بنانے کی بجائے ہر معاملے کو مصلحتوں پر قربان کر رہا ہے جو کسی طرح بھی قومی یکجہتی اور ملکی مفاد میں نہیں ایسے میں صوبے کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا بھی ناگزیر ہو گیا ہے جس کیلئے جلد ہی ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ہونگے افسوس کہ مرکز ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو اگلے سال جاری رکھنے پر تلا ہے حالانکہ یہ ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے قبل کا بنا ہے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور محکموں کی منتقلی کے بعد صوبے پر مالی بوجھ ہزار گنا بڑھ چکا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/05/2016 - 22:35:04 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان