خیبرپختونخوا چیمبر کابزنس کمیونٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے نوٹسز پر اظہار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مئی

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:54:48 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:54:48 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:54:48 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:52:31 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:52:31 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:52:31 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:51:04 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:51:04 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:46:25 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:45:19 وقت اشاعت: 08/05/2016 - 16:45:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

خیبرپختونخوا چیمبر کابزنس کمیونٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے نوٹسز پر اظہار تشویش

ریجنل ٹیکس آفس پشاور 45 دنوں میں ری فنڈز ادائیگی کا پابند ہے مگر بزنس کمیونٹی کو سال سے 6 مہینے ری فنڈز ادا نہیں کیا جا رہا، ٹیکس بقایاجات کی آڑ میں بزنس کمیونٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے جاسکتے ہیں تو پھر ری فنڈز میں تاخیر پر ٹیکس افسران کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے،صدر خیبرپختونخوا چیمبر

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 مئی۔2016ء)خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ذوالفقار علی خان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لئے نوٹسز کے اجراء پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے متاثرہ صوبے کی بزنس کمیونٹی کے ٹیکس بقایا جات کی آڑ میں ایک بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کیاگیا تو بزنس کمیونٹی بینکوں سے اپنا سرمایہ نکال لے گی ۔

ریجنل ٹیکس آفس پشاور 45 دنوں میں ری فنڈز ادائیگی کا پابند ہے لیکن بزنس کمیونٹی کو سال سے 6 مہینے ری فنڈز ادا نہیں کیا جا رہا اگر بزنس کمیونٹی کے ٹیکس بقایاجات کی آڑ میں بینک اکاؤنٹس منجمد کئے جاسکتے ہیں تو پھر ری فنڈز میں تاخیر پر ٹیکس افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خیبر پختونخوا کے تاجروں اور صنعتکاروں کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنے آفس میں میڈ یا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ خیبر پختونخوا چیمبر کے صدر ذوالفقار علی خان نے کہا کہ ٹیکس حکام بزنس کمیونٹی کو ہراساں کر رہے ہیں اور ریجنل ٹیکس آفس کی جانب سے ٹیکس وصولی کی آڑ میں بینکوں کو کاروباری افراد کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواکی بزنس کمیونٹی پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہاں کے صنعتکار اور تاجر بڑی بہادری اور جرات کے ساتھ دہشت گردی انتہاء پسندی بھتہ مافیا اور دیگر جرائم پیشہ وارداتوں کا مقابلہ کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی معاشی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی بزنس کمیونٹی کے لئے مزید مشکلات پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کمرشل بینکس کسی قسم کی لینڈنگ نہیں کر رہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے پشاور میں تمام کمرشل بینکوں کے ہیڈز کو بلایا اور انہیں ہدایات جاری کیں کہ وہ خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کو آسان شرائط پر قرضوں کے اجراء کو یقینی بنائیں لیکن اس کے باوجود کوئی بینک اس صوبے کی بزنس کمیونٹی کو قرض دینے کے لئے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں بجلی اور گیس کا بحران یہاں کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیس میں سرپلس ہونے کے باوجود نئے انڈسٹریل اور کمرشل گیس کنکشنز پر پابندی عائد ہے جو بعض ذرائع کے مطابق حکومت اب ہٹا رہی ہے لیکن کم پریشر کا معاملہ جوں کا توں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی بزنس فرینڈلی معاشی پالیسیاں متعارف کرانی چاہئیں جس سے اس صوبے میں سرمایہ کاری کا عمل شروع ہو اور پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کے

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/05/2016 - 16:52:31 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان