وزیر اعظم کی احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مئی

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 05/05/2016 - 22:35:14 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 22:35:14 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 22:35:14 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 22:02:07 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 22:00:47 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:52:43 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:49:22 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:48:06 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:39:42 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:39:41 وقت اشاعت: 05/05/2016 - 21:37:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

وزیر اعظم کی احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،

, احتساب کا عمل موجودہ دور سے شروع ہوکر 1947تک چلایا جائے، کرپشن کے خاتمے اور احتساب کیلئے جلد قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کرینگے، کرپشن فری پاکستان تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ،احتساب کا مطالبہ پانامہ لیکس تک محدودنہیں پانامہ لیکس وہ حادثہ ہے جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا،وزیر اعظم اور انکے خاندان کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں، حکمران ٹولے کی مسلسل کوشش کے باوجود پانامہ لیکس سے وزیر اعظم اور اسکے خاندان کے نام نہیں نکالے جاسکے،اپوزیشن کی جانب سے احتساب کیلئے متفقہ ٹی او آرزاور حکمت عملی کی سفارشات بھیجے جانے کے بعد گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہوگا , امیرجماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق کا پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 مئی۔2016ء ) امیرجماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان تحریک اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور یہ تحریک اور احتساب اب پاکستان کے ہر شہری کا نعرہ بن چکا ہے،احتساب کا مطالبہ پانامہ لیکس تک محدودنہیں بلکہ گذشتہ حکومتوں میں جن لوگوں نے ملکی خزانے کو لوٹ کر رقم بیرون ملک منتقل کی ہے ان سب کا احتساب وقت ضرورت ہے،وزیر اعظم کی جانب سے احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،احتساب کا عمل موجودہ دور سے شروع ہوکر 1947تک چلایا جائے اور جن لوگوں نے اختیارات کو قوم کی دولت لوٹنے کیلئے استعمال کئے ہیں ان سب کا احتساب ہو،پانامہ لیکس وہ حادثہ ہے جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاوزیر اعظم اور انکے خاندان کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں حکمران ٹولے کی جانب سے مسلسل کوشش کے باوجود پانامہ لیکس سے وزیر اعظم اور اسکے خاندان کے نام نہیں نکالے جاسکے،اپوزیشن کی جانب سے احتساب کیلئے متفقہ ٹی او آرزاور حکمت عملی کی سفارشات بھیجے جانے کے بعد گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہوگا کہ وہ معاملے کو بگاڑتے یا سلجھاتے ہیں ،احتساب کا عمل ہر صورت الٹی طرف سے ہی شرو ع کرنا ہوگا،کرپشن روکنے احتساب کیلئے بہت جلد قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کرنے جارہے ہیں اور اس بل کی منظوری کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا تعاون حاصل کریں گے ۔

وہ جمعرات کو یہاں المرکز الاسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان،جنرل سیکرٹری خیبرپختونخوا عبد الواسع بھی موجود تھے،امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک بھی شروع کی اور احتساب کا مطالبہ کیا اور الحمد للہ ہم نے سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا تھا آج بھی فخر کے ساتھ اپنے سابقہ وزراء،ممبران قومی و صوبائی اسمبلی،سینیٹرز حتیٰ کہ مرحوم مئیر کراچی سمیت دیگر مرحوم ممبران کو احتساب کیلئے پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور حکمران ٹولہ حقیقی اور نظر آنے والے احتساب کے حق میں نہیں وہ اگر احتساب کے حق میں ہوتے تو سابقہ حکومتوں سے شروع کرنے کی بجائے اپنے آپ سے احتساب کا عمل شروع کرتے لیکن انہوں نے سارا معاملہ ہی الجھادیا ہے، انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے مشترکہ اور متفقہ ٹی او آرز کی سفارشات بھیجیں گے اگر حکومت نے وہ قبول کیے تو ہم سمجھیں گے کہ حکومت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05/05/2016 - 21:52:43 :وقت اشاعت