خیبر پختونخواہ میں سرمایا کاری کے فروغ کیلئے ایک ڈیسک کا قیام عمل میں لا رہے ہیں، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:14:22 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:10:44 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:04:23 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:04:21 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:04:21 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 13:04:21 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 12:59:33 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 12:57:35 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 12:48:51 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 12:41:07 وقت اشاعت: 27/04/2016 - 12:36:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

خیبر پختونخواہ میں سرمایا کاری کے فروغ کیلئے ایک ڈیسک کا قیام عمل میں لا رہے ہیں، عمران خان

پشاو ر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 اپریل۔2016ء)فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ریاض خٹک کی قیادت میں خیبر پختونخوا کے تمام ضلعی چیمبر آف کامرس کے وفد نے وزیر اعلیٰ میں خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی ۔جس میں خیبر پختونخواہ سے متعلق انڈسٹری اور تاجروں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد نے بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر حاجی غلام علی، فیڈریشن کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین احمد جواد، سابق نائب صدرعدنان جلیل ، حطارانڈسٹریل ایسوسی ایشن کے بانی ملک فرید، مردان چیمبر ،چترال چیمبر،ڈیرہ اسماعیل خان چیمبر، ہری پور چیمبر، کوہاٹ چیمبر اور پشاور سمال چیمبر کے صدور نے شرکت کی ۔ریاض خٹک نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کے خیبر پختونخواہ کی حکومت نے پچھلے تین سالوں سے کئی اصلاحات کی جس میں صحت ،تعلیم اور پولیس کا نظام سر فہرست ہے جبکے صوبے کی معیشت کے استحکام کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ اس صوبے کی معیشت زراعت سے منسلک ہے ۔اور ناقافی سہولتوں کی بناء پر ہورٹری کلچرل انڈسٹری کو مسائل کا سامنا ہے۔ جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ صوبے کی برآمداد میں اضافہ ہوسکے۔فیڈریشن کے نائب صدر ریاض خٹک نے مزید کہا کہ اگر ہم اس صوبے کی انڈسٹری پالیسی پر بات کریں تو ہمیں یہ نظراتاھے کہ نئی انڈسٹری پالیسی میں پرانے کارخانوں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اوٹھائے گئے۔

جس کی وجہ سے پرانے کارخانوں کے مالکان مایوسی کا سامنا ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبے کی نئی انڈسٹرے پالیسی میں جو مراعت نئے کارخانوں کے قیام کے لئے دی گئی ہے۔ وہی مراعات پرانے کارخانوں جو کئی سالوں سے صوبے میں قیام پزیر ہے انکو بھی وہی مراعت دی جائے۔ ریاض خٹک نے مزید کہا کہ صوبائی بجٹ جون کے مہینے میں متوقع ہے۔اور ابھی تک اس صوبے کی ایپکس ٹریڈ باڈی سے خیبر پختونخواہ کی حکومت نے ابھی تک مشاورت نہیں کی۔

جس کی ہم مزمت کرتے ہیں۔انہوں کہا کہ صوبائی وزارت خزانہ فوری طور پر فیڈریشن چیمبر سے صوبائی بجٹ کے سلسلے میں رابطہ کریں تاکہ آنے والے بجٹ میں اس صوبے کی بزنس کمیونٹی کے لئے مراعت دی جاسکے تا کھ مسایل کا ھل ھو۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے خطاب میں ایف پی پی سی آئی کے اہدے داران کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں خوش آمدید کہا اور ایک کمیٹی کی تشکیل نوں کا اعلان کیا جس میں فیڈریشن چیمبر کے اہدے داران اور خیبر پختونخواہ حکومت کے ممبر شامل ہوں گے۔

جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ خود کریں گے۔جس کا ہر مہینے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس بھلایا جائے گے۔جس میں بزنس کمیونٹی کے مسائل پر کل کر بات کی جاسکے گی۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ چیمبر آف کامرس کا رول کسی بھی معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے ۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کے آنے والے دنوں ہم ایک دفعہ پھر فیڈریشن چیمبر کے وفد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

جس میں ہر سیکٹر پر تفصیل سے مشاورت کی جاسکے۔تاکہ اس صوبے کی معاشی مسائل کا ادراک ہوسکے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں سرمایا کاری کے فروغ کے لئے ایک ڈیسک کا قیام عمل میں لا رہے ہیں۔ تاکہ دوسرے صوبوں سے اور بیرونے ملک سے لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔تاکہ صوبے میں انڈسٹری کے قیام کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ افغان سموں کے استعمال پر جو صوبے کی عوام کو مشکلات ہے وہ ہم پوری طریقے ختم کرنے کیلئے ایک لاہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔اور اسلسلے میں ہم اپنی خدشات کا اظہار افغانستان کے سفیر سے بھی ملاقات کے دوران کہہ چکے ہیں۔

27/04/2016 - 13:04:21 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان