ملک سے لوٹ مار اور کرپشن ختم کئے بغیر دیر پا امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا،پرویز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ اپریل

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 23/04/2016 - 23:00:50 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:59:15 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:59:15 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:59:15 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:58:02 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:58:02 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:45:34 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:45:34 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:36:16 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:35:42 وقت اشاعت: 23/04/2016 - 22:35:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

ملک سے لوٹ مار اور کرپشن ختم کئے بغیر دیر پا امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا،پرویز خٹک

2018 کے عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف اس ملک میں حکومت بنائے گی،وزیر اعلی کے پی کے

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 اپریل۔2016ء)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے فوج سے کڑے احتساب کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بہت بڑا کارنامہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک سے لوٹ مار اور کرپشن ختم کئے بغیر دیر پا امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔وہ امان گڑھ میں ضلعی کونسلر سید علی شاہ اور عاشور آباد میں ویلج ناظم سید ممتاز علی شاہ،کونسلر نادر خان، مرجان علی، ڈاکٹر واجد، ملک طاہر، محمد اسلام سعید اللہ، ناردخٹک، حیدر کاکا، گل محمد ٹھیکیدار، حاجی نیاز، شیر علی خان، اقبال، جوہر شاہ، عراق شاہ، مثل خان، گل نارس خان، نبی گل سلطان احمد، گل دراز خان، جاوید کی اپنے ساتھیوں اور خاندان سمیت اے این پی ، اور پی پی پی سے مستعفی ہونے اور تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر جلسوں سے خطاب اورذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔

جلسوں سے صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکاخیل، ضلع ناظم لیاقت خان خٹک،ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک ، تحصیل ناظم نوشہرہ رضا ء اللہ خان، تحصیل نائب ناظم زر عالم خان ، ضلعی کونسلر سید علی شاہ، ذوالفقار علی خٹک اور جان مست نے بھی خطاب کیا۔وزیراعلیٰ نے پاک فوج میں احتساب کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے فیصلوں کی بھر پور تائید اور حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ فوج میں احتساب کا عمل جاری وساری رہتا ہے لیکن اس کی تشہیر نہیں ہوتی یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاک فوج کے فیصلوں کو عوام کے سامنے لایاگیا جس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس سیکنڈل میں ملوث وزیراعظم سمیت تمام لوگوں کے لئے مشکل پیدا ہوگئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک لوٹ مار ،کرپشن اور کمیشن کا پیسہ ان لوگوں سے واپس نہیں لیا جاتا اوران کو سزائیں نہیں مل جاتیں اس ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہوگا ۔

خیبرپختونخوا میں انہوں نے کرپشن اور کمیشن کے خلاف جہاد شروع کررکھا ہے انہوں نے کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ ایک دوسرے پر چوری کے الزمات لگانے والے خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کوضرور شرم آئے گی اور لوٹی ہوئی دولت واپس اس ملک میں لائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابقہ صوبائی حکمران بھی آج احتساب کی بات کررہے ہیں۔

وہ خود بتائیں کہ ان کے پاس کتنے اثاثے ہیں اور سابقہ دور حکومت میں انہوں نے جو کرپشن کی ہے اس کی داستانیں ابھی عوام نہیں بھولے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما آج ٹاک شوز میں کڑے احتساب کی بات کررہے ہیں درحقیقت عوام کو معلوم ہے کہ بیرون ملک ان کی جائیدادیں کہاں سے آئیں انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی بھی آج پی ٹی آئی اور ہماری حکومت کے خلاف باتیں کررہے ہیں۔

ان کی حیثیت بھی سب کومعلوم ہے کہ ان کاماضی کیاتھا اور حال کیاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دوبارہ اقتدار کے خواب چھوڑ دیں۔ عوام کو ان کی اصلیت معلوم ہے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈ میں بیس فیصد ایڈوانس کمیشن وصول کیا اوراس کے لیے جس کی خدمات حاصل کی گئیں وہ بھی خود کو معصوم کہتا ہے جبکہ اربوں روپے کی چوری میں قومی احتساب بیورو کوصرف پچیس کروڑ روپے ادا کیے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ ان سے کوئی پوچھے کہ کل ان کی جائیداد اور گاڑیاں کیا تھیں اورآج ان کے پاس اربوں کھربوں روپے اوریہ جائیدایں اور لینڈ کروزر کہاں سے آئیں۔انہوں نے کہا کہ انکے جو اثاثے پچیس سال سے کھلی کتاب جیسے اورڈیکلیر ہیں اور وہ بھی میرے باپ دادا کے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ جب تک اس ملک کی سیاسی قیادت ایماندار نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں وسائل کی کوئی کمی نہیں۔سابقہ حکومتوں نے وسائل کاغلط استعما ل کیا اور چوری چکار ی کی تقرریوں اور تبادلوں کی قیمتیں وصول کرتے رہے اور غریب عوام کا استحصال ہوتا رہا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اداروں سے کرپشن اور کمیشن کلچر کا بڑی حدتک خاتمہ کردیاہے۔ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ سو فیصد کمی کردی مگر کافی حدتک کمی ہے جس کی غیر جانبدار سروے ٹیموں نے خیبرپختونخوا کی حکومت کی گڈ گورننس قانون سازی اداروں سے سیاسی مداخلت کے خاتمہ بہترین پولیس فورس اور آئین و قانون کی بلادستی میں پورے ملک سے موازنہ کرکے بہترین حکومت قراردیا ہے۔

اور ہماری ڈھائی سالہ کارکردگی کو پنجاب کی تیس سالہ کارکردگی سے بہتر قراردیا انہوں نے کہا یہ امر قابل ذکر اور خوش آئند ہے کہ ہم جو قدم اٹھاتے ہیں اور جو قانون سازی کرتے ہیں دوسرے صوبے ہماری تقلید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے تحریک انصاف کو نجات کا راستہ سمجھ کر چیرمین عمران خان پر بھر پور اعتماد کااظہار کرتے ہوئے ہمیں بھاری مینڈیٹ دیا۔

جو ہمارے مخالفین کوہضم نہیں ہورہا اور اب ہماری مقبولیت سے گھبرا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ ہمیشہ عوام کے ساتھ رابطے میں ہیں ان کے مخالفین جس سے بھی گھبرا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ صرف الیکشن کے دنوں میں عوام کے پاس نہیں جاتے بلکہ ہمیشہ عوام میں رہتے ہیں انہوں نے کہاکہ 2018 کے عام انتخابات میں بھی تحریک انصاف اس ملک میں حکومت بنائے گی۔ عوام باشعور ہیں وہ تبدیلی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کوبھاری اکثریت سے کامیاب کریں گے اور پورے ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔بعدازاں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے امان گڑھ میں عبدالرحیم خٹک سے ان کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔

23/04/2016 - 22:58:02 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان