پختون سرزمین کوانتہا پسندی،دہشت گردی اور امن و امان کی سنگین صورتحال کا سامنا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 22/04/2016 - 20:18:34 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 20:14:58 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 20:12:18 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 20:02:02 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 20:02:02 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:58:05 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:53:59 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:53:59 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:53:59 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:47:44 وقت اشاعت: 22/04/2016 - 19:38:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پختون سرزمین کوانتہا پسندی،دہشت گردی اور امن و امان کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے،آفتاب شیرپاؤ

درپیش چیلنجز سے نمٹنے ،پختونوں کی خوشحالی ،خطے میں امن ، تعمیر ترقی کیلئے پاکستان ،افغانستان کی مشترکہ کاؤشوں کی ضرورت ہے،چیئرمین قومی وطن پارٹی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 اپریل۔2016ء) قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پختون تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں اور انھیں دہشتگردی،ٹارگٹ کلنگ،ہیروئین وکلاشنکوف کلچراور باالخصوص اپنی امن پسند و محب وطن تشخص جیسے مسئلے کا سامنا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کی قربانیاں بے مثال ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روزبحیثیت مہمان خصوصی شہید بے نظیر بھٹووومن یونیورسٹی اورعبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے اشتراک سے پاک افغان خطے میں آباد پختونوں کی شناخت کے سوال ،درپیش مسائل اور چیلنجز اور ان کا حل کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ صورتحال میں پختون سرزمین کوانتہا پسندی،دہشت گردی اور امن و امان کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے جس نے نہ صرف پختون کلچر کو شدید نقصان پہنچایابلکہ خطے کا پورا انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پر مایوسیوں اور محرومیوں نے جنم لیا۔

گزشتہ تین دہائیوں سے پختونوں کی سرزمین پر جنگ جاری ہے جس میں ہزاروں پختون شہید اور لاکھوں بے گھر ہوئے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پختون امن پسند،محب وطن اور بہادر قوم ہیں۔ آفتاب شیرپاؤ نے پختونوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اورپختونوں کی خوشحالی اور خطے میں امن اور تعمیر ترقی کیلئے پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کاؤشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے دونوں ممالک کے پختون براہ راست متاثر ہو رہے ہیں لہٰذا دونوں ممالک کو اس عفریت پر قابو پانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کرنا ہوگی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان لمبی باؤنڈری ہے جس کے دونوں اطراف پختون آباد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ پالیسیاں بناتے وقت بھی دونوں ممالک کے پختون اسٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لینا چاہیے اور ان کی مشاورت سے پالیسیاں بنانی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے پہلے ہی دونوں ممالک کے مابین بد اعتمادی کے خاتمے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22/04/2016 - 19:58:05 :وقت اشاعت