ہمارے صوبے میں قدرتی اور مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ،ایمانداری کی ضرورت ہے،مظفرسید ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اپریل

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:26:06 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:23:51 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:23:50 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:23:50 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:22:26 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:22:25 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:22:25 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:21:22 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:21:21 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:21:21 وقت اشاعت: 12/04/2016 - 23:20:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

ہمارے صوبے میں قدرتی اور مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ،ایمانداری کی ضرورت ہے،مظفرسید

سرکاری اداروں میں عوامی تعاون ،شرکت کے بغیر بجٹ سازی کے نتائج مثبت نہیں منفی نکلتے ہیں ،حکام کو پائیدار ترقی کیلئے فنڈز کے انتظامات و استعمال میں عوامی فیڈبیک کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے،وزیرخزانہ خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اپریل۔2016ء)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ہمارے صوبے میں قدرتی اور مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں تاہم مسئلہ ان وسائل کو ایمانداری سے بروئے کار لانا اور شفاف و منصفانہ استعمال کا ہے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں عوامی تعاون اور شرکت کے بغیر بجٹ سازی کے نتائج مثبت نہیں بلکہ منفی نکلتے ہیں اسلئے حکام کو پائیدار ترقی کیلئے فنڈز کے انتظامات و استعمال میں عوامی فیڈبیک کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے وہ ضلع کونسل ہال پشاور میں ضلعی حکومت، پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اور یو ایس ایڈکے زیراہتمام بلدیاتی نمائندوں، بلدیہ اہلکاروں اور عام شہریوں کیلئے بجٹ سازی اور آڈٹ و پڑتال کے تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے جس میں ضلعی و ٹاؤن کونسلروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جبکہ نائب ضلع ناظم سید قاسم علی شاہ، ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل سید عبدالسلام آصف، پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور ریسرچ ایسوسی ایٹ شکیل احمد رامے نے بھی خطاب کیا اور پروگرام کی چیدہ خصوصیات پر روشنی ڈالی وزیر خزانہ نے کہا کہ قوم کی ترقی کیلئے نہ تو اللہ دین کا چراغ کام کرتا ہے اور نہ ہی دوسرے لوگ کام آتے ہیں ہمیں اپنی ہی وسائل پر اکتفا کرکے اور انکا شفاف استعمال یقینی بنا کر اپنی تقدیر بدلنی اور آئندہ نسل کا مستقبل بناک بناناہے مگر ہم شفافیت کی بجائے کرپشن میں شہرت پانے اور اپنا کل داؤ پر لگانے کے خگر ہو گئے ہیں اس ضمن میں عوامی شعور کی بیداری اور آگہی بھی ناگزیر ہے تاکہ ہم مالی بدعنوانیوں کے نقصانات جان کر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/04/2016 - 23:22:25 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان