فاٹا میں مستقل امن اور وسیع تر اصلاحات کے بغیر تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے،میاں افتخار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اپریل

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:47:29 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:46:21 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:46:21 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:46:20 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:59 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:59 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:59 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:06 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:05 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:44:05 وقت اشاعت: 11/04/2016 - 23:35:47
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

فاٹا میں مستقل امن اور وسیع تر اصلاحات کے بغیر تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے،میاں افتخار حسین

عارضی امن کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کیلئے پنجاب میں بلا امتیاز کاروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں , فاٹا کے عوام نے اے این پی کی طرح امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ، علاقے کو مین سٹریم پالیٹکس میں لایا جائے , عمران خان نے قوم سے خطاب کر کے ایک نئی مگر مضحکہ خیز مثال قائم کر لی ہے،پا نامہ لیکس کا جائنٹ سیشن میں حل نکالاجائے

پشاور(اُردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11 اپریل 2016ء)اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فاٹا میں ایف سی آر سمیت تمام امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے اور فاٹا کو صوبے میں ضم کیے بغیراس جنگ زدہ مگر انتہائی جغرافیائی اہمیت کے حامل خطے میں مستقل امن کا قیام اور استحکام ممکن نہیں ہے جبکہ ملک سے دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے لازمی ہے کہ پنجاب میں مصلحت سے کام لینے کی بجائے 70 سے زائد کالعدم تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جائیں اور عسکری قیادت اور پنجاب حکومت اس معاملے پر ایک صفحے پر آجائیں۔

اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان کے مطابق میاں افتخار حسین نے باڑہ خیبر ایجنسی میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف پشتون علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے مستقل امن کا قیام ممیکن نہیں ہے اس کیلئے لازمی ہے کہ پنجاب میں بھی موثر کارروائیاں کی جا ئیں اور فاٹا کے امن کو یقینی بنانے کیلئے کالے قوانین اور سٹیٹس کو ختم کر کے اس اہم ترین علاقے کو صوبے میں شامل کر کے اُسے نیا سٹیٹس دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ فاٹا اور دہشتگردی کے معاملے پر اے این پی کا موقف واضح رہا ہے اور ہم اب بھی کہتے ہیں کہ عارضی امن کو دائمی امن میں تبدیل کر نے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اُنہوں نے کہا لگ یہ رہا ہے کہ عسکری قیادت اور پنجاب حکومت اس بڑے صوبے میں فوجی آپریشن کے معاملے پر ایک صفحے پر نہیں ہیں تاہم ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پنجاب میں موثر اور بلا امتیاز کارروائیاں ناگزیر ہیں اوراگر ایسا نہیں کیا گیا تومستقبل میں حالات مزید خراب ہو جائیں گے اور دہشتگردی کے خاتمے کا موزون وقت ضائع ہو جائیگا۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/04/2016 - 23:44:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان