یونیورسٹیوں کیلئے حکومت کے اقدامات ، اصلاحات اور ترامیم ناکامی سے دوچار ہو چکی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:52:21 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:52:20 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:49:27 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:49:27 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:47:31 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:41:47 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:41:47 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:32:01 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:30:22 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:30:21 وقت اشاعت: 24/03/2016 - 22:30:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

یونیورسٹیوں کیلئے حکومت کے اقدامات ، اصلاحات اور ترامیم ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں، میاں افتخار حسین

اگر حکومت نے ہمارے وضع کردہ نظام یا فارمولے کو نہیں چھیڑا ہوتا تو بحران جنم نہیں لیتا , حکومت کی ترامیم اور نظام کی خرابیوں کے باعث صوبے کی 10 یونیورسٹیاں وائس چانسلرز سے محروم ہیں

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔24 مارچ۔2016ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے صوبے کی یونیورسٹیوں کے انتظامی اُمور اور وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق صوبائی حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے یکطرفہ اور اپنے مفادات پر مبنی پالیسی کے باعث یونیورسٹیوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ آج تقریباً دس یونیورسٹیاں وائس چانسلرز سے محروم ہیں اور دیگر مشکلات میں بھی دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

باچا خان مرکز پشاور میں پیوٹا کے صدر جمیل چترالی کی زیرقیادت وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اے این پی 2012 میں جو یونیورسٹیز ایکٹ لے آئی تھی وہ میرٹ اور حالات ضروریات کے عین مطابق تھی اور یونیورسٹیوں کے متعلقہ حکام اس ایکٹ سے مطمئن بھی تھے تاہم موجودہ حکومت نے محض بدنیتی کی بنیاد پر ریفارمز اور آرڈیننس کے ذریعے اس نظام کو سبوتاژ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ترامیم کے ذریعے بہتر اصلاحات لانا چاہ رہی ہے۔

تاہم حکومت نے پہلے سے موجودہ میکنیزم کو تباہ کر کے رکھ دیا اور اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ حکومت 2015 کے اپنے ایکٹ میں ترامیم پر ترامیم کرتی چلی آ رہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مسلسل ترامیم اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ حکومت کا وضع کردہ نظام یا ایکٹ یا تو غلطیوں کا مجموعہ ہے یا اس میں بنیادی سقم موجود ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ معاملات بہتر ہونے کی بجائے بگڑتے گئے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں نے ہمارے ایکٹ یا اصلاحات میں ناقابل عمل اور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/03/2016 - 22:41:47 :وقت اشاعت