پشاور ‘نامعلوم افراد نے ہوٹل میں قیمتی پتھروں کے افغان تاجر کا گلاکاٹ کر موت کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:17:55 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:17:54 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:06:18 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:06:18 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:06:18 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:04:01 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:04:01 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:04:01 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:03:20 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 14:03:13 وقت اشاعت: 19/03/2016 - 13:53:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پشاور ‘نامعلوم افراد نے ہوٹل میں قیمتی پتھروں کے افغان تاجر کا گلاکاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا

پولیس نے لاش برآمد کر کے مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دیں

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 مارچ۔2016ء)خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے ایک ہوٹل میں قیمتی پتھروں کے ایک افغان تاجر کی لاش ملی ہے جسے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ پر نئے اڈے کے قریب ایک ہوٹل کے کمرے سے خون بہتا ہوا باہر آیا تو ہوٹل کی انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔پولیس کے تفتیشی افسر محمود علی کا کہنا ہے کہ گل محمد کا تعلق افغانستان کے علاقے خوست سے تھا اور کل رات انھوں نے ہوٹل میں کمرہ لیا تھا۔

پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ دو افراد ان سے ملنے کے لیے ان کے کمرے میں گئے تھے اور وہ وہاں کچھ وقت رہے چائے بھی پی اور پھر چلے گئے۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ نیم شب کے وقت افغان تاجر کے کمرے سے خون بہتا ہوا باہر آیا تو ہوٹل انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کمرہ کھول کر دیکھا گیا تو افغان تاجر کی لاش پڑی تھی اور اس کا گلا کاٹا گیا تھا۔

افغان تاجر کا نام گل محمد بتایا گیا ہے اور ان کی عمر 45 سال تک تھی۔ گل محمد چھوٹے پیمانے پرقیمتی پتھروں کا کاروبار کرتے تھے۔تفتیشی افسر محمود علی نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس قتل کی کیا وجہ تھی پولیس مختلف زاویوں سے اس کی تفتیش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ افغان تاجر انتہائی ایماندار اور شریف النفس انسان تھا۔ پولیس ان کے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم حاصل کر رہی ہے تاکہ انھیں اطلاع دی جا سکے

19/03/2016 - 14:04:01 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان