صوبہ کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے 40کے قریب نئے کالجوں کا قیام عمل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:18:00 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:17:59 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:17:59 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:11:13 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:11:13 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:05:35 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:05:35 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 20:04:28 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 19:53:56 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 19:46:15 وقت اشاعت: 12/03/2016 - 19:46:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

صوبہ کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کیلئے 40کے قریب نئے کالجوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے،مشتاق غنی

صوبائی حکومت تعلیم نسواں پر پوری توجہ دے رہی ہے ،مقصد کی تکمیل کیلئے صوبے میں خواتین کیلئے دو مزید اعلیٰ جامعات کی منظوری دیدی گئی ہے،معاون خصوصی برائے اطلاعات

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 مارچ۔2016ء)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ اور اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے، صوبہ کے دور دراز علاقوں میں نوجوانوں کو گھر کی دہلیز پر معیاری اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لئے 40کے قریب نئے کالجز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد خواتین کے لئے کالجز کی ہے۔

ان خیالات کا ظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ایبٹ آباد میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج نمبر 1کے سالانہ کانووکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ماسٹر، بیچلر اور بی ایس پروگرام مکمل کرنے والے طلباء و طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں علاوہ ازیں انہوں نے مختلف ڈگری پروگرام میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات اور احسن کارکردگی پر فیکلٹی ارکان میں گولڈ میڈلز اور تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اعلیٰ جامعات کو ان کے اصل کام تحقیق پر لگا دیا ہے بدقسمتی سے گزشتہ دور میں مذکورہ جامعات کوصرف روزگار فراہم کرنے کاا دارہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کالجز کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ان کو خودمختار بنا رہی ہے تاکہ لیکچررز کی تعیناتی و تبادلے سمیت دیگر مالی و انتظامی مسائل وہ خود حل کر سکیں، خود مختاری سے کالج کے سربراہان کی تنخواہیں بھی دوگنا ہو جائیں گی جس سے وہ اپنے فرائض پہلے سے زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکیں گے۔

مشتاق احمد غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت تعلیم نسواں پر پوری توجہ دے رہی ہے اور مقصد کی تکمیل کیلئے صوبے میں خواتین کیلئے دو مزید اعلیٰ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/03/2016 - 20:05:35 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان