سکول نہ جانے والے بچوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لئے گھرگھر سروے کرنے کا پروگرام ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:07:21 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:05:54 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:04:27 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:04:26 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:01:15 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 18:01:15 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 17:59:41 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 17:59:40 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 17:58:32 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 17:50:35 وقت اشاعت: 06/03/2016 - 17:50:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

سکول نہ جانے والے بچوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لئے گھرگھر سروے کرنے کا پروگرام ہے،محمد عاطف

پالیسی کے مطابق صوبے میں پرائمری اور سیکنڈری سکولز بنیں گے، پرائمری سکول چھٹی جبکہ سیکنڈری سکول بارہویں جماعت تک ہو گا، وزیر تعلیم خیبر پختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 مارچ۔2016ء)خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ نئی پالیسی کے مطابق آئندہ صوبے میں صرف پرائمری اور سیکنڈری سکولز بنیں گے۔ پرائمری سکول چھٹی جبکہ سیکنڈری سکول بارہویں جماعت تک ہو گا۔اسی طرح سکول نہ جانے والے بچوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لئے گھر گھر سروے کرنے کا بھی پروگرام ہے تاکہ کوئی بچہ زیور تعلیم سے محروم نہ رہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں سرکاری سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں دوسروں کے علاوہ سیکرٹری تعلیم افضل لطیف ،ایڈیشنل سیکرٹری قیصر عالم اور متعلقہ محکموں کے حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کو نئے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے مجوزہ ڈیزائن اور رنگ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شہری اور دیہی علاقوں کے لئے وہاں کے موسمی حالات کو مد نظر رکھ کرالگ الگ ڈیزائن تجویز کئے گئے ہیں۔وزیر تعلیم نے ہدایت کی کہ نئے ڈیزائن میں بچوں اور اساتذہ کی تمام ضرورتوں کا پوراپورا خیال رکھا جا ئے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مجوزہ پلان کے مطابق ہر نیا پرائمری سکول 6کمروں،6اساتذہ،پلے ایریا،پرنسپل آفس اورسٹاف روم جبکہ سیکنڈری سکول 11کمروں،4لیب،1لائبریری،ملٹی پرپز ہال، پرنسپل آفس اورسٹاف روم پر مشتمل ہوگا اور ہر سکول میں بچوں کے لئے تمام بنیادی سہولیات مہیا ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھرتی بھی ناقابل تبادلہ ہو گی۔

ان اقدامات کا مقصد بار بار تبادلوں اور سکولوں کی اپ گریڈیشن کے جھنجھٹ سے مستقل بنیادوں پر چھٹکارہ حاصل کرنا ہے۔عاطف خان نے کہا کہ ماضی کی طرح کوئی بھی سکول باقاعدہ سروے اورپلاننگ کے بغیر تعمیر نہیں ہوگی تاکہ قومی خزانے کا ضیاع نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سرکاری سکولوں کو ہر لحاظ سے مثالی بناناہے اور ان کے تعلیمی معیار کو اتنا بہتر کرنا ہے کہ ترقیافتہ ممالک کی طرح والدین خود بخود اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تقریباْ 30ہزارسرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر 43ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے اور پہلے مرحلے میں جون2016ء تک اس مد میں10ارب خرچ کر دیئے جائیں گے۔

06/03/2016 - 18:01:15 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان