سینیٹر تاج حیدر کا باچا خان مرکز پشاور کا دورہ ،میاں افتخار حسین سے ملاقات
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:28:37 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:26:09 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:26:09 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:09:44 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:06:57 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:06:57 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:06:57 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:04:10 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:04:10 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:02:45 وقت اشاعت: 17/02/2016 - 20:02:45
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

سینیٹر تاج حیدر کا باچا خان مرکز پشاور کا دورہ ،میاں افتخار حسین سے ملاقات

دہشتگردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کیلئے جمہوریت پسند قوتوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، سینیٹر تاج حیدر , نئی مردم شمار نہ ہونے سے چھوٹے صوبے احساس محرومی کا شکار ہیں، امن و امان کا بہانہ رکاوٹ نہیں بننا چاہئے، میاں افتخار حسین

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 فروری۔2016ء)ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تمام ترقی پسند اور قوم پرست قوتوں کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی،اور حکومت کوامن ومان کے مسئلے کو اولین ترجیح دینی ہوگی،ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹر تاج حیدر نے باچاخان مرکز کے دورے کے موقع پر اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین سے ملاقات کے دوران کیا،دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی،انتہاپسندی اور شدت پسندی ہے،جس کا راستہ روکنے کے لیے تمام مکاتب فکر بالخصوص ترقی پسند اور قوم پرست قوتوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے،انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے لیے سازگار ماحول بنانا حکومت کا فرض ہے ،بار بارمردم شماری ملتوی کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے چھوٹے صوبوں میں طرح طرح کے خدشات پیدا ہورہے ہیں،کیوں کہ ملک میں تمام فیصلے آبادی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں،مگر نئی مردم شماری نہ کیے جانے کے باعث چھوٹے صوبے احساس محروی کا شکارہورہے ہیں، اگرچہ صوبوں کی آبادی میں ہرسال بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی مردم شماری کی جائے تاکہ صوبوں میں پائے جانے والے خدشات دور ہوسکیں،انہوں نے کہا کہ وزیرستان سے نقل مقانی کرنے والوں کی اصل تعداد بیس لاکھ ہے مگر پرانی مردم شماری میں اسے اب بھی دس لاکھ بتائی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس وقت امن و امان کا زیادہ تر مسئلہ قبائلی علاقوں،خیبر پختون خوا،کراچی اور بلوچستان میں ہے تاہم اسے مردم شماری کی راہ میں حائل ہونے یا جواز نہیں بنانا چاہیے۔

اس موقع پر میاں افتخار حسین نے سینیٹر تاج حیدر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت پسند سیکولر قوتوں کا بدلتے حالات میں متحد رہنا اور اہم ایشوز پر مشترکہ موقف اپنانا انتہائی ناگزیر ہے تاکہ درپیش مشکلات اور چیلینجز سے نمٹا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حقوق اور اختیارات کا مسئلہ بعض اچھے اقدامات کے باوجود مزید پیش رفت کا متقاضی ہے اور اسی سے پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی مشروط ہے۔ قبل ازیں سینیٹر تاج حیدر نے باچا خان مرکز کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ نامساعد حالات کے باوجود پارٹی کی فعالیت اور سرگرمیاں قابل تقلید ہیں۔

17/02/2016 - 20:06:57 :وقت اشاعت