حملوں کے تناظر میں نیشنل ایکشن پلان سمیت ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر نظر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:57:31 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:57:31 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:56:14 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:56:14 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:56:14 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:55:00 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:55:00 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:55:00 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:53:44 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:53:44 وقت اشاعت: 12/02/2016 - 21:53:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

حملوں کے تناظر میں نیشنل ایکشن پلان سمیت ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔میاں افتخار حسین

کارروائیوں سے ثابت ہوتا ہے یا تو پلان پر عمل نہیں ہو رہا، یا اس میں کمزوریاں ہیں، حالات بہتر ہونے کی بجائے پھر سے خراب ہونے لگے ہیں

ٖپشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 فروری۔2016ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان سمیت ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے اور خبر دار کیا ہے کہ اگر ریاستی اداروں اور حکمرانوں نے ابہام ، لاتعلقی اور سستی پر مبنی رویے تبدیل نہیں کیے تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائیگا اور وہ بدترین عدم تحفظ کے باعث اپنی حفاظت کے لیے مزاحمت پر اُتر آئیں گے۔

پشاور کے نامور تاجر شہید حاجی حلیم جان اور شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے خوش آواز نوحہ خواں اور سرکاری افسرشہید افتخار کی تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ ملک میں نہ تو سنی محفوظ ہے اور نہ شعیہ ۔ ایسے میں یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ وہ کون ہیں جو بیک وقت سب کو نشانہ بنانے نکلے ہیں اور ان کا راستہ روکنا کن کی ذمہ داری ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ فوجی اقدامات اور نیشنل ایکشن پلان کے باوجود دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دیگر کارروائیوں میں اضافے سے ہمارا یہ خدشہ پھر سے درست ثابت ہو گیا ہے کہ یا تو نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا یا اس میں بعض بنیادی خامیاں یا نقائص موجود ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی طبقہ مسلک یا ادارہ حملوں سے محفوظ نہیں ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ایک وارننگ تھی تاہم اداروں اور حکمرانوں نے اس وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ عوام کے احساس عدم تحفظ نے ایسی شکل اختیار کی کہ اب وہ مزاحمت پر اُترتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ عوام بجا طور پر سوال اُٹھا رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/02/2016 - 21:55:00 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان