گورنر خیبر پختونخوا کی حیثیت سے ذمہ داریاں بہ طریق احسن ادا کیں
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:52:13 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:49:54 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:44:29 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:44:29 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:44:29 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:40:37 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:08:00 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:08:00 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:08:00 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 22:02:31 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:59:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

گورنر خیبر پختونخوا کی حیثیت سے ذمہ داریاں بہ طریق احسن ادا کیں

ذاتی مصروفیات کی باعث مستعفی ہوا ہوں ، سرادر مہتاب احمد خان کی صحافیوں سے بات چیت

پشاور۔08 فروری( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 فروری۔2016ء )گورنر خیبر پختونخوا سر دار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ صوبے کے گورنر کی حیثیت سے انہیں جو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں وہ انہوں نے بطریق احسن نبھائی ہیں اور اب ذاتی مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ انہوں نے 15 اپریل 2014ء کو گورنر خیبر پختونخوا کا منصب نامساعد حالات میں سنبھالا اس صورت حال میں قبائلی علاقہ جات میں قبائلی علاقوں کی پسماندگی کا خاتمہ اور وہاں تعمیر و ترقی انکی اولین ترجیحات تھیں لیکن ان ترجیحات کی تکمیل کے لئے فاٹا سے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے وہاں امن و سکون اور ریاست کی عملداری کی بحالی اور اس سے بھی بڑھ کر فاٹا (کرم ایجنسی  جنوبی وزیرستان ایجنسی  خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور اورکزئی ایجنسی) سے نقل مکانی کرنے والے قبائل کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی ازحد ضروری تھی، یہی وجہ تھی کہ وفاقی حکومت یا باہر سے امداد کی آمد کا انتظار کئے بغیر ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں باڑہ کے متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا گیا 11 مئی 2014ء کو ٹی ڈی پیز کی واپسی کے رجسٹریشن سنٹر پرخودکش حملہ کے باوجود واپسی کا یہ عمل جاری رکھا گیا ۔

سردار مہتاب نے کہا کہ جنوری 2015ء میں بہت زیادہ امیدوں اور خلوص سے قیام امن کی خاطر کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن یہ عمل کامیاب نہ ہوا اور جون 2015ء میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کے دوران شہری آبادی کو نقصانات سے بچانے کے لئے شمالی وزیرستان سے مقامی آبادی کی نقل مکانی کے فیصلہ کے تحت دس لاکھ سے زائد قبائل کو بے گھر ہونا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے پاک فوج کے تعاون سے اپنے شمالی وزیرستان کے ان ٹی ڈی پیز کی امداد اور دلجوئی کے لئے دن رات انتھک محنت کی اور اس عمل میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کیا  انہوں نے اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور ان کی حکومت کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے ٹی ڈی پیز کی اتنی بڑی تعداد کی منتقلی میں امداد کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ شورش زدہ علاقوں سے دہشت گردی کے خا تمے وہاں امن کے قیام اور آئی ڈی پیز کی امداد سمیت مختلف بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق فاٹا کی رسوم  رواج  روایات اور قبائل کی مرضی  امنگوں اور خواہشات کے مطابق اصلاحات کے جامع عمل کا بھی آغاز کیا گیا کیونکہ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں نہ تو فاٹا کو موجودہ صورت میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایف سی آر قوانین یہاں کے عوام کا مقدر ہیں۔

اس سلسلے میں سابق چیف سیکرٹری اعجاز قریشی کی سربراہی میں فاٹا ریفارمز کمیشن نے قبائل کے منتخب ارکان پارلیمنٹ سمیت تمام طبقات کی مشاورت سے ایک عبوری رپورٹ مرتب کی ، ایک پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ انھوں نے گورنر ہاؤس میں عمائدین کے جرگوں کی دیرینہ روایت پر انحصار کرنے کے بجائے مختصر عرصہ میں خود تمام قبائلی ایجنسیوں کے ایک سے زائد دورے کئے جس سے قبائلی عوام کے مسائل موقع پر جاننے کے ساتھ مقامی انتظامیہ میں بھی ذمہ داری کا احساس اجاگر ہوااور قبائلی علاقوں میں ایک مئوثر  شفاف اور جوابدہ انتظامی مشینری کو متعارف کرانے کی کامیاب کوشش کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں خالصتاً میرٹ پر افسران کی تقرری عمل میں لانے اور فاٹا سیکرٹریٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں میں تمام تقرریاں میرٹ پر کرنے کے لئے یہاں پہلی مرتبہ این ٹی ایس کا شفاف نظام متعارف کیا گیا جسے قبائلی عوام کی بھرپور پذیرائی ملی ۔

انہوں نے کہا کہ تقرریوں اور بھرتیوں میں شفافیت کے ساتھ ساتھ قومی وسائل کے بہترین استعمال  شفافیت اور بہترین گورننس کی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں ان ٹھیکیداروں کو جیلوں میں ڈال کران سے ریکوریاں کی گئیں جو تعمیراتی منصوبوں کی پیشگی وصولیاں کرنے کے بعد رفوچکر ہو گئے تھے جبکہ ان ٹھیکیداروں سے ملی بھگت کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی گھوسٹ ترقیاتی منصوبوں پر قومی وسائل کا ضیاع روکنے کے لئے فاٹا میں ایسے تمام منصوبے ترک کردیئے گئے جن پر سالہا سال سے رقوم خرچ ہونے کے باوجود ان پر پیش رفت اور ان کا عوامی استفادہ نہ ہونے کے برابر تھے ان کی جگہ عوامی مفاد کی سکیمیں بروقت مکمل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز جاری کر کے ان کی جلد تکمیل کو ترجیح دی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ مثالی تعاون اور بہترین تعلقات کار کے ذریعے جہاں قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمہ اور مستقل امن کے قیام کی کامیاب کوششیں کی گئیں ،باڑہ سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں فوج اور سیکورٹی ادارے مقامی سطح کا انتظام سول انتظامیہ کے سپرد کر چکے ہیں اس مقصد کے لئے سول انتظامیہ کو جہاں اپنے قبائل کی بھرپور حمایت حاصل ہے وہاں فاٹا کی لیوی فورسز کو بھی امن و امان کے چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کے لئے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اس ضمن میں سو فیصدی لیوی فورسز کو جدید اسلحہ سے لیس کیا گیا ہے جبکہ جدید خطوط پر تربیت کے مرحلہ وار پروگرام کے تحت اب تک لیوی کی 30 فیصد سے زائد نفری کو تربیت دی جا چکی ہے قبائلی علاقوں میں ملٹری اور سول انتظامیہ کے مابین بہترین تعلقات کار اور محب وطن قبائل کے تعاون سے دہشت گردی کا کامیابی سے خاتمہ کر کے وہاں امن و استحکام کی واپسی کو یقینی بنایا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان قبائلی علاقوں میں سول انتظامیہ کی استعداد کو بہتر بنا کر باڑہ سمیت مختلف علاقوں میں انتظام ملٹری قیادت سے سول انتظامیہ کو مرحلہ وار منتقلی کا آغاز ہو چکا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ سے جنوبی وزیرستان اور تمام ایف آرز میں تعمیر و ترقی کے بڑے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے جن میں زیادہ اہمیت ان شاہراہوں کو دی گئی ہے جو مختلف دور افتادہ علاقوں کو آپس میں ملاتی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/02/2016 - 22:40:37 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان