2013 کے الیکشن نتائج کوخوف اور جبر کے ذریعے مخصوص ٹولے کی جانب موڑ دیا گیا، امیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:02:52 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:02:52 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:01:55 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:01:55 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 21:01:55 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:57:46 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:57:46 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:55:43 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:55:22 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:55:22 وقت اشاعت: 08/02/2016 - 20:55:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

2013 کے الیکشن نتائج کوخوف اور جبر کے ذریعے مخصوص ٹولے کی جانب موڑ دیا گیا، امیر حیدر خان ہوتی

دہشتگردی نے صوبے کی سیاست ، معیشت اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم نے سینکڑوں شہید دیکر قوم اور صوبے کے حقوق کا تحفظ کیا، سردار حسین بابک

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 فروری۔2016ء)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 2013 کے الیکشن میں خوف ، جبر اور جانبداری کے ذریعے اے این پی کو عوام کی نمائندگی سے محروم رکھا گیا جو کہ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف تھا۔ خوف اور جبر کے باعث الیکشن کے نتائج کو مخصوص ٹولے کی جانب موڑ دیا گیا جس کا خمیازہ آج صوبے کے جنگ زدہ اور غریب عوام کو بگھتنا پڑ رہا ہے۔

وہ پشتخرہ پشاور میں جبار خان اور دولت خان کے اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کی تقریب کر رہے تھے جس سے دوسروں کے علاوہ صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور ضلعی صدر ملک نسیم خان نے بھی خطاب کیا جبکہ صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ ، صوبائی فنانس سیکرٹری خوشدل خان ، ضلع مردان کے ناظم حمایت اﷲ مایار ، مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر اوراے این پی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر ملک غلام مصطفیٰ نے بھی اجتماع میں شرکت کی۔

حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تبدیلی کے دعوؤں اور اعلانات کے ذریعے صوبے کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالاگیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے مجموعی حالات بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ تبدیلی کا دعویٰ کرنے والوں نے صوبائی بجٹ میں 77 ارب روپے کی کٹوتی کر کے عوام دُشمنی کا ارتکا ب کیا ہے جبکہ تین برس گزرنے کے باوجود کوئی ایک بھی قابل ذکر منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا۔

اُنہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس صوبے میں امن کے قیام ، ترقی اور خوشحالی کا سرے سے کوئی پلان یا ایجنڈہ ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں نے اساتذہ ، طلباء اور والدین کو ہراساں کر کے تعلیمی اداروں پر خوف اور وحشت مسلط کر کے ان کے ہاتھوں میں اسلحہ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/02/2016 - 20:57:46 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان