افغان حکومت ،عوام کو چارسدہ میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی کے دہشتگردی کا نشانہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:57:01 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:54:27 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:54:27 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:54:27 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:53:19 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:51:38 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:41:58 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:09:39 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:07:03 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:07:03 وقت اشاعت: 29/01/2016 - 20:07:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

افغان حکومت ،عوام کو چارسدہ میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی کے دہشتگردی کا نشانہ بننے پربہت تشویش ہے، ڈاکٹر اشرف غنی

15سال پہلے کے افغانستان اور آج کے افغانستان میں زمین آسمان کا فرق ہے، جلال آباد میں باچا خان کی برسی پر منعقدہ اجتماع کے موقع پر خصوصی پیغام

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جنوری۔2016ء)افغانستان کے صدر ڈاکٹراشرف غنی نے کہا ہے کہ عظیم پشتون رہنما باچا خان نے پشتونوں میں تعلیم کے فروغ ، منفی رسومات کے خاتمے ، امن کے قیام اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے جدوجہد کرکے خطے کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ رکھے ہیں۔ تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ چارسدہ میں ان کے نام سے منسوب یونیورسٹی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور کوشش کی جارہی ہے کہ پشتونوں کو علم اور امن سے محروم رکھا جائے تاہم اب حالات بہت بدل گئے ہیں اور دہشتگردی یا انتہا پسندی کے ذریعے خطے کے عوام کو مزید جاہل اور پسماندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے صوبہ ننگرہار کے دارلحکومت جلال آباد میں باچا خان کی 28 ویں برسی کی مناسبت سے ان کے مزار پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نمائندہ وفد کے دورہ کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے اپنے ایک تحریری پیغام کے دوران کیا جو کہ ننگر ہار کے گورنر سلیم خان کندوزی نے پڑھ کر سنایا۔ اجتماع سے گورنر کے علاوہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، ببرک میاں خیل ، اُستاد محمد انور سلطانی اور لال بادشاہ ازمون نے بھی خطاب کیا۔

افغان صدر نے اپنے پیغام میں باچا خان بابا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی سیاست ، انگریزوں سے آزادی اور افغان معاشرے کے اصلاح کی جدوجہد میں باچا خان بابا نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں تاہم وہ کئی دہائیوں تک اپنے نظریات کے ذریعے منظر عام پر چھائے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو ایک عظیم رہبر کی حیثیت حاصل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابانے تعلیم کے فروغ اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے سکول قائم کیے۔ وہ بری رسومات کے خاتمے کیلئے عوام کے حجروں پر گئے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ تعلیم ، شعور اور اجتماعی ترقی کے بغیر قوموں کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

29/01/2016 - 20:51:38 :وقت اشاعت