با چا خان یونیورسٹی پر حملہ ہماری تحریک پر حملہ تھا ، پختونوں کا مزیدقتل عام برداشت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:41:22 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:41:22 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:40:16 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:36:48 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:36:48 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:36:48 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:35:31 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:35:30 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:34:31 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:34:31 وقت اشاعت: 26/01/2016 - 22:34:31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

با چا خان یونیورسٹی پر حملہ ہماری تحریک پر حملہ تھا ، پختونوں کا مزیدقتل عام برداشت نہیں کیا جائیگا ‘اے این پی نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک ہزار کے لگ بھگ ممبران اسمبلی عہدیداروں اور کارکنوں کی قربانیاں دیں ‘ اس کے صلے میں ہمیں اسمبلیوں سے باہر نکال دیا گیا ،طالبان کے دوستوں کو حکومت دی گئی جو ان کے کیلئے دفتر کھولنے کے متلاشی رہے ‘حکومت ہوش کے ناخن لے اور پختونوں کا مزید خون بہنے سے روکے

اے این پی کے سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور کاباچا خان اور ولی خان کی برسی پر دعائیہ تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 جنوری۔2016ء )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ با چا خان یونیورسٹی پر حملہ ہماری تحریک پر حملہ تھا اور اب پختونوں کا مزیدقتل عام برداشت نہیں کیا جائیگا ‘اے این پی نے پانچ سالہ دور اقتدار میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک ہزار کے لگ بھگ ممبران اسمبلی عہدیداروں اور کارکنوں کی قربانیاں دیں ‘جس کے صلے میں ہمیں اسمبلیوں سے باہر نکال دیا گیا اور طالبان کے دوستوں کو حکومت دی گئی جو ان کے کیلئے دفتر کھولنے کے متلاشی رہے ‘حکومت ہوش کے ناخن لے اور پختونوں کا مزید خون بہنے سے روکے ۔

وہ منگل کو یہاں باچا خان مرکز پشاور میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کے کے حوالے سے منعقدہ ختم القرآن اور دعائیہ تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر خدائی خدمت گار تحریک کے بانی اور رہبر تحریک کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی گئی ، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان سامنے آیا تاہم اس کے تمام 20نکات پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا جس کے نتیجے میں باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کا ایک طویل عرصے سے مقابلہ کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی ہم اس مقابلے کیلئے تیار ہیں تاہم اگر باچا خان اور ولی خان کی بات مان لی جاتی تو آج خطے میں پختونوں کا اتنا خون نہ بہتا اور نہ ہی مہنگائی اور بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑتا۔ مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے اس موقع پر کہاکہ حکومت اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرے ،نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل درآمد نہیں ہوپارہاہے،اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کودور کیاجائے،اُنہوں نے کہا کہ ہم جنازے اُٹھاتے تھک چکے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ اس خونی کھیل کو روکا جائے ۔

تاہم آج اگر ہم، پیار سے بات کرتے ہیں توکل ہمارا لہجہ تلخ بھی ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صرف وزیرستان میں جاری محدود آپریشن سے امن کا قیام دیوانے کا خواب ہے،جب تک پورے ملک بشمول پنجاب جہاں اب بھی ستر سے زائد کالعدم تنظیمیں مختلف ناموں سے موجود ہیں ان کے خلاف تیز آپریشن کیاجائے،باچاخان یونیورسٹی پرحملہ ہماری سوچ اور تحریک پرحملہ ہے،مرکزی حکومت نے اس سانحہ کو سنجیدہ نہیں لیا،سانحہ کو اے پی ایس کی طرح سنجیدہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

26/01/2016 - 22:36:48 :وقت اشاعت