آرمی چیف کا ملازمت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ پیشہ ورانہ رویے کا عکاس ہے، میاں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:07:44 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:07:44 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:07:44 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:06:38 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:06:38 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:06:38 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:05:14 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:03:18 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:03:17 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:02:18 وقت اشاعت: 25/01/2016 - 23:02:18
- مزید خبریں

پشاور

آرمی چیف کا ملازمت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ پیشہ ورانہ رویے کا عکاس ہے، میاں افتخار حسین

یہ بات خوش آئند ہے کہ عسکری اور حکومتی قیادت نے افغانستان سے متعلق تاثر اور ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی تاہم وزیر اعلیٰ کا بیان قطعاً مختلف ہے

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 جنوری۔2016ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے کو پیشہ ورانہ رویہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کی ساکھ کی بہتری کیلئے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات اور رویوں کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ آرمی چیف نے وضاحت کر کے ابہام دور کر دیا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پسند ، نا پسند کی بجائے میریٹ کی بنیاد پر نئے سربراہ کا تعین کیا جائے تاکہ اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔ اگر چہ توسیع دینے یا نہ لینے کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہے تاہم آرمی چیف کا واضح بیان خوش آئند ہے۔پشاور میں میاں افتخار حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے حالیہ بیان نے مختلف نوعیت کے ابہام اور شکوک دور کردئیے ہیں ۔

سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ رویے نہ صرف اداروں کی ساکھ اور بہتری کیلئے لازمی ہے بلکہ اس انڈر سٹینڈنگ کے ملکی حالات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جمہوریت کو فروغ ملتا ہے۔ دہشتگردی کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے قیام کے نتیجے میں جو اُمید پیدا ہوگئی تھی بدقسمتی سے وہ پوری نہیں ہوئی ۔

اگر تمام نکات پر عمل درآمد کیا جاتا تو دہشتگرد دوبارہ منظم نہ ہوتے اور حملوں کی تعداد بڑھنے سمیت باچا خان یونیورسٹی پر حملے جیسا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی صدر باراک اوباما کا داعش سے متعلق پیش گوئی اور پاکستان سے مزید اقدامات اُٹھانے کے مطالبے بھی سنجیدگی کیساتھ لینے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اور ہماری داخلہ ، خارجہ پالیسیوں کو ہنگامی طور پر ری وزٹ کرنے کی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25/01/2016 - 23:07:44 :وقت اشاعت