ڈ ی جی آئی ایس پی آر نے چارسدہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے رابطوں کی ٹیلیفونک گفتگو، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:35:29 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:34:25 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:34:25 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:25:35 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:21:08 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:15:20 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:12:20 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:09:10 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 20:08:02 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:54:21 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:33:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

ڈ ی جی آئی ایس پی آر نے چارسدہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے رابطوں کی ٹیلیفونک گفتگو، صحافی کوکی گئی کال اوراستعمال ہونے والی افغان سم کا نمبرفراہم کردیا

حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افغان سم نمبر0093774021675سے کال کی گئی، ٹیلیفونک گفتگو میں دہشت گردوں نے یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی , ہمیں دربدر کر رہے ہیں یہ کون ہیں، سیاسی نظام کا حصہ ہیں، جمہوریت اور طاغوتی نظام کا حصہ ہیں، دہشتگردوں کی صحافی سے ٹیلیفونک گفتگو

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جنوری۔2016ء) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سانحہ چارسدہ کی تحقیقات بارے میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں دہشت گردوں کے رابطوں کی ٹیلیفونک گفتگو، دہشت گرد کی جانب سے پاکستان میں صحافی کوکی گئی کال اوراستعمال ہونے والی افغان سم کا نمبر بھی شیئر کیا اور کہاکہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افغانستان کے نمبر0093774021675سے کال کی گئی، دہشت گردوں نے ٹیلیفونک گفتگو میں دہشت گردوں نے یونیورسٹی پر حملے کا ا عتراف کیا،افغانستان سے دہشت گرد کی پاکستان میں رپورٹر کو کی گئی کال میں یہ کہا گیا کہ یہ جو چارسدہ میں عبدالولی خان یونیورسٹی پر اٹیک ہوا ہے یہ ہمارے بندے ہیں،جس پر صحافی نے کہا کہ یہ تو یونیورسٹی ہے،یہ تو پھر آرمی پبلک سکول والا معاملہ ہو گیا، جس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ تو صحیح ہے کیونکہ جو ہمیں دربدر کر رہے ہیں یہ کون ہیں، سیاسی نظام کا حصہ ہیں، جمہوریت اور طاغوتی نظام کا حصہ ہیں، تحریک طالبان کی طرف سے ہم ذمہ داری قبول کرتے ہیں، صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ یہ کتنے بندے ہیں جو اندر گئے ہیں اور یہ سب خود کش ہیں یا ویسے ہی ہیں، جس پر دہشت گرد کی جانب سے جواب دیا گیا کہ یہ سب فدائی ہیں، فدائیوں کے نام عمر، عثمان، علی محمداور عابد ہیں، صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ان کے اپنے نام ہیں یا کوڈ نام ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ یہ ان کے اپنے نام ہیں،صحافی کی جانب سے کہاگیا کہ2 کی تو اطلاعات ہیں کہ وہ مر گئے ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ ہمیں اطلاع ہے کہ ایک شہید ہوا ہے اور 3کارروائی کر رہے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم ان کے معاونین اور سہولت کار سب کو ختم کر دیں گے، اس پر عمل بھی شروع کیا گیا، ہمارے 332 بندے پھانسی پر چڑھا دیئے، ان سب کو نام دیا گیا کہ یہ مجاہدین کے سہولت کار ہیں، کل بھی پشاور اور ڈی آئی خان میں ہمارے بندے مارے گئے۔

23/01/2016 - 20:15:20 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان