نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈمیں تاخیر بارے وزیرخزانہ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:13:23 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:13:23 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:12:05 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:12:05 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:12:05 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈمیں تاخیر بارے وزیرخزانہ خیبرپختونخوا کی زیرصدارت اجلاس

تیل و گیس سیس کی مد میں 29ارب روپے، 1991 کے پانی تقسیم معاہدے کے تحت 119ارب روپے کی ادائیگی بھی باقی ہے، مظفر سید ایڈووکیٹ

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جنوری۔2016ء)خیبر پختوپختوا حکومت نے نئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل میں حد درجہ تاخیر اور صوبے کی حق تلفیوں سے متعلق ماضی کے تلخ تجربات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل جرگہ بلانے اور سندھ و بلوچستان سمیت باقی صوبوں کو بھی اعتماد میں لینے کیلئے نیا لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے صوبے کی بیوروکریسی نے بھی مالیاتی حقوق پر صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا یقین دلایا ہے وفاق کو نویں این ایف سی ایوارڈ کیلئے اجلاس جلد بلانے اور صوبائی حقوق کی واگزاری یقینی بنانے پر آمادہ کرنے کیلئے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت ہفتہ کو سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں اجلاس ہو اجس میں نئے ایوارڈ کے بارے میں پیشرفت اور صوبائی حکومت کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ اس ضمن میں جامع سفارشات بھی مرتب کی گئیں اجلاس میں سیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ، سپیشل سیکرٹری کامران رحمان، کنسلٹنٹ احتشام الحق اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ پروفیسر محمد ابراہیم خان، نورالحق اور ضیاء الرحمان سمیت کمیشن کے ممبران اور محکمہ خزانہ سے وابستہ سابق سینئر بیورو کریٹس نے بھی شرکت کی اور صوبے کو درپیش مسائل و مشکلات سے اگاہی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کا کیس موثر انداز میں پیش کرنے کیلئے تجاویز پیش کیں اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ صوبے میں حقیقت پسندانہ بنیادوں پر غربت اور پسماندگی کے اشارئیے مرتب کرنے، اس ضمن میں محکمہ منصوبہ بندی و ادارہ شماریات کو فعال بنانے، مالیاتی مشیروں کی تعداد میں فوری اضافے اور تجربے کار کنسلٹنٹ مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا مظفر سید نے ایوارڈ کے سلسلے میں مکمل حمایت پر اجلاس کا شکریہ ادا کیا تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز مالیاتی کمیشن سمیت صوبوں اور عوام کے حقوق کی ادائیگی کا نظام انکے وسائل اور ضروریات کی بنیاد پر خودکار بنانے کی بجائے ہر چیز کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا رہا ہے جو کسی طرح بھی قومی مفاد میں نہیں اس صورتحال میں ہمارے لئے جملہ سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا بھی ناگزیر ہو گیا ہے جس کیلئے عنقریب ہنگامی بنیادوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2016 - 19:10:56 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان