چار سیدہ یونیورسٹی حملے کے گرفتار پانچ سہولت کار میڈیا کے سامنے پیش کر دیئے گئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:56 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:10:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:03:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:03:03 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:00:51 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 19:00:51 وقت اشاعت: 23/01/2016 - 18:49:54
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

چار سیدہ یونیورسٹی حملے کے گرفتار پانچ سہولت کار میڈیا کے سامنے پیش کر دیئے گئے

حملہ آوروں نے میڈیا کے ایک رپورٹر سے گفتگو کر کے ذمہ داری قبول کی ٗ کال کو ٹریس کر کے ریکارڈ کرلیا گیا تھا ٗ ترجمان پاک فوج , حملہ کا مین کمانڈر عمر تھا ٗگرفتار ریاض ٗ ضیاء اﷲ ٗ نوراﷲ اور عادل نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی ٗایک سہولت کارکی تلاش جاری ہے ٗ چیکنگ سے بچنے کیلئے دہشتگرد نے اسلحہ لانے کیلئے بیوی اور بھانجی کو استعمال کیا ٗ ہلاک ہونے والا امیر رحمان نامی دہشت گرد جنوبی وزیرستان کا باشندہ تھا ٗ تین دہشتگردوں کی شناخت ہونا باقی ہے ٗ کبھی نہیں کہا افغان حکومت چارسدہ حملے میں شریک تھی ٗ افغانستان کے ایک مخصوص علاقے سے حملہ کنٹرول کیا گیا ٗسہولت کاروں بغیر دہشت گردی نہیں ہوسکتی ٗدہشت گردوں کے مقاصد کو اتحاد سے شکست دینا ہوگی ٗ آرمی چیف نے 2016میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے ابھی 2016کا آغاز ہے ٗ پورا سال پڑا ہے ٗ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا مزید عزم اور محنت سے پیشرفت کر نا ہوگی ٗقومی ایکشن پلان سے متعلق سوال مجھ سے نہ پوچھا جائے ٗڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی میڈیا کو بریفنگ

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 جنوری۔2016ء)پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے باچان خان یونیورسٹی پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کے پانچ گرفتارسہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ حملہ آوروں نے میڈیا کے ایک رپورٹر سے گفتگو کر کے ذمہ داری قبول کی ٗ کال کو ٹریس کر کے ریکارڈ کرلیا گیا تھا ٗ حملہ کا مین کمانڈر عمر تھا ٗگرفتار ریاض ٗ ضیاء اﷲ ٗ نوراﷲ اور عادل نے دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی ٗایک سہولت کارکی تلاش جاری ہے ٗ چیکنگ سے بچنے کیلئے دہشتگرد نے اسلحہ لانے کیلئے بیوی اور بھانجی کو استعمال کیا ٗ ہلاک ہونے والا امیر رحمان نامی دہشت گرد جنوبی وزیرستان کا باشندہ تھا ٗ تین دہشتگردوں کی شناخت ہونا باقی ہے ٗ کبھی نہیں کہا افغان حکومت چارسدہ حملے میں شریک تھی ٗ افغانستان کے ایک مخصوص علاقے سے حملہ کنٹرول کیا گیا ٗسہولت کاروں بغیر دہشت گردی نہیں ہوسکتی ٗدہشت گردوں کے مقاصد کو اتحاد سے شکست دینا ہوگی ٗ آرمی چیف نے 2016میں دہشتگردی کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے ابھی 2016کا آغاز ہے ٗ پورا سال پڑا ہے ٗ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا مزید عزم اور محنت سے پیشرفت کر نا ہوگی ٗقومی ایکشن پلان سے متعلق سوال مجھ سے نہ پوچھا جائے۔

ہفتہ کو آئی ایس پی آرکے مطابق کورہیڈ کوارٹرزپشاورمیں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں کورکمانڈرپشاور ٗڈی جی آئی ایس آئی ٗ ڈی جی ایم او ٗڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آرنے شرکت کی۔اجلاس کے دوران فاٹا اورخیبرپختونخوا میں آپریشن کا جائزہ لیا گیا اورخیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن پر غور ہوا، پاک افغان بارڈر مینجمنٹ اور چارسدہ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

عسکری حکام کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے چار سدہ حملہ میں ملوث سہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں نے میڈیا کے ایک رپورٹر سے گفتگو کی اور حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی، اس کی کال کو ٹریس کرکے ریکارڈ کر لیا گیا تھا، افغانستان سے ایک نمبر سے 4 کالیں چارسدہ میں کی گئیں ۔

انہوں نے صحافیوں کو دہشت گرد کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو صحافیوں کو سنائی، جس میں وہ حملے کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ چارسدہ یونیورٹی کے 4 حملہ آور تھے جبکہ 5 مرکزی سہولت کار تھے انہوں نے بتایا کہ حملہ کا مین کمانڈر عمر تھا جس نے ذمہ داری قبول کی اس کا نائب ذاکر ہے انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کو افغانستان سے طور خم کے راستے پاکستان بھیجا گیا یہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے چار سد ہ مردان روڈ پہنچے جہاں انہیں ایک مکان میں ٹھہرایا گیا انہوں نے بتایا کہ چار سہولت کار ریاض ٗ ضیاء ا ﷲ ٗ نور اﷲ اور عادل گرفتار کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک ابھی گرفتار ہونا ہے ہم اس کا فرضی نام’’A‘‘ رکھ لیتے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ سہولت کار عاد ل مستری کا کام کرتا ہے اس نے باچا خان یونیورسٹی میں بھی کام کیا تھا اور یونیورسٹی کے پورے نقشے سے آگاہ تھا اس نے حملے میں مدد کی او ر ریکی بھی کرائی ۔حملے کیلئے ایک رکشہ لیا گیا جسے نور اﷲ کے حوالے کیا گیاجو حملے کے روز دہشت گردوں کو رکشے کے ذریعے یونیورسٹی کے قریب گنے کے کھیتوں میں اتار کر گیا حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ درہ آدم خیل سے خریدا گیااور اسلحہ لانے میں دہشتگرد اے کی بیوی اور بھانجی کو استعمال کیاگیا کیونکہ عموماً برقعہ پہننے والی خواتین کی چیکنگ نہیں کی جاتی۔

انہوں نے بتایا کہ پکڑے جانے والوں ریاض کا بیٹا ابراہیم شامل ہے جسے پورے منصوبے کا عمل تھا جبکہ ضیاء اﷲ نامی سہولت کار بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے جس نے حملے میں اپنا کر دار ادا کیا ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ امیر رحمان نامی دہشت گرد جنوبی وزیرستان کا باشندہ تھا جس کی نادرا سے تصدیق ہو چکی ہے ڈی این اے کے ذریعے باقی دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹر کو افغانستان سے کی گئی ٹیلیفون کال میں یہ بتایا گیا کہ حملہ آور فدائی ہیں جن کے نام عمر، عثمان، علی محمد

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23/01/2016 - 19:10:03 :وقت اشاعت