راہداری منصوبہ کی افادیت پر کسی صوبے کو اعتراض نہیں ،پرویز خٹک
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/01/2016 - 00:22:24 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 23:24:12 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 23:02:12 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:56:00 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:56:00 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:43:58 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:40:35 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:37:49 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:37:49 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:36:08 وقت اشاعت: 15/01/2016 - 22:36:08
- مزید خبریں

پشاور

راہداری منصوبہ کی افادیت پر کسی صوبے کو اعتراض نہیں ،پرویز خٹک

ہمارا مطالبہ ہے کوریڈور کے تمام روٹس پر ضروری سہولیات خیبرپختونخواسمیت تمام صوبوں کو مساوی طور پر ملنی چاہئیں ، ہم مغربی روٹ پر صرف ایک سڑک قبول نہیں کریں گے،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 جنوری۔2016ء)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے جمعہ کے روز وزیرا عظم نواز شریف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے کرائی گئی یقین دہانی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ راہداری منصوبہ کی افادیت پر کسی صوبے کو اعتراض نہیں لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس اقتصادی کوریڈور کے تمام روٹس پر ضروری سہولیات خیبرپختونخواسمیت تمام صوبوں کو مساوی طور پر ملنی چاہئیں اور ہم مغربی روٹ پر صرف ایک سڑک قبول نہیں کریں گے تاہم انہوں نے کہاکہ ہم نے آل پارٹیز کانفرنس کے تازہ اعلامیہ کو تسلیم کر لیا ہے لیکن اس میں کرائی گئی یقین دہانی پر پورا یقین تب ہو گا جب اس منصوبے سے متعلق تمام شواہد سامنے لائے جائیں اور تمام صوبوں کو یکساں ترقی کے مواقع عملی طور پر مل جائیں گے وزیراعلیٰ نے کہاکہ 15 جنوری کو وزیر اعظم کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس میں خیبرپختونخوا نے راہداری منصوبے سے متعلق اپنے خدشات اور تحفظات کھل کر بیان کئے ہیں انہوں نے کہاکہ اٹھائیس مئی کی آل پارٹیز کانفرنس میں وزیر اعظم نوا زشریف نے وعدہ کیاتھا کہ مغربی روٹ سب سے پہلے بنے گا اورہم نے جب دیکھا کہ عملاً ایسا کچھ نہیں تو ہم نے احتجاج کیااب وزیراعظم نے دوبارہ یقین دہائی کرائی ہے کہ پہلے مغربی روٹ پر کام شروع ہوگا اور وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی جو سنٹرل کاریڈور میں شامل ہیں۔

ہم نے وزیر اعظم کی بات کایقین کرلیاہے اورا نہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں چاروں وزیر اعلیٰ ہوں گے لیکن اس سے قبل فزیکل پلاننگ اور منصوبہ بندی کی وزرات کے ساتھ بیٹھ کر اس منصوبے کی فنڈنگ سمیت تمام معلومات حاصل کی جائیں گی اور جب ہمیں یقین ہو جائے گا کہ اس کے لئے فنڈنگ موجود ہے اور جو وعدہ کیا گیا ہے اس سے ہمارے صوبے کا مستقبل بہتر ہو سکے گا کاریڈور پر خیبرپختونخوا میں بھی کارخانے لگ سکیں گے ، گیس ، بجلی ، ایل این جی اور ریلوے لائن موجود ہو گی تو ہم قوم کو بتائیں گے کہ خیبرپختونخوا کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا گیا ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اقتصادی کاریڈور بہت بڑا اور مفید منصوبہ ہے ہمار ا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اس میں وعدے کے مطابق خیبرپختونخوا کو اپنا حصہ اور حق دیا جائے انہوں نے کہاکہ کاریڈور سے منسلک تمام سہولتیں اور منصوبے جب خیبرپختونخوا کو بھی ملیں گے تب ہم کہہ سکیں گے کہ صوبے کے ساتھ انصاف ہوا ہے اور پنجاب کی طرح ہمارے بچے اور جوان بھی چین اور دیگر ممالک میں جا کر تعلیم و تربیت حاصل کرسکیں گے اور اقتصادی ترقی ممکن ہو گی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انڈسٹریل پارک بنیں گے ۔

وزیر اعلی نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بتایا کہ ہمارے صوبے میں بجلی کا فرسودہ نظام اور پرانے گرڈ سٹیشن ہیں جو زیادہ مقدا ر میں بجلی برداشت نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے سارا سسٹم بیٹھ جاتا ہے اگر پاکستان پچاس ہزار میگا واٹ بجلی بھی پیدا کرلے اور اس کی ترسیل کا ا نفراسٹرکچر تبدیل نہ کیا جائے تو اتنی بجلی پیدا کرنے کا فائدہ کوئی نہیں ہو گا اور ہم لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نہیں نکل سکیں گے اور نہ ہمارا صوبہ ترقی کرسکے گا اگر وفاقی حکومت تین بلین ڈالر بجلی پر خرچ کر رہی ہے تو اس سے ہماررے صوبے کے ٹرانسمیشن سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیاجائے ۔

ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز اُنہوں نے نوشہرہ جلوزئی میں ایک بڑے عوامی جلسے سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک، رکن صوبائی اسمبلی میاں خلیق الرحمن، ضلع نائب ناظم اشفاق خٹک،یوسی جلوزئی کے ڈسٹرکٹ ممبر حاجی حسین احمد خٹک، تحصیل ناظم پبی میاں مرتضی رحمان، نائب ناظم ساجد خان لالہ،ڈسٹرکٹ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/01/2016 - 22:56:00 :وقت اشاعت