زراعت دیگر معاشی شعبوں میں بنیادی حیثیت کاحامل شعبہ ہے، ملکی معیشت کی بہتری میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:41:40 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:35:31 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:35:31 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:35:31 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:32:49 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:32:49 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:25:05 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:23:10 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:23:10 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:23:10 وقت اشاعت: 13/01/2016 - 22:20:28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

زراعت دیگر معاشی شعبوں میں بنیادی حیثیت کاحامل شعبہ ہے، ملکی معیشت کی بہتری میں اس کاکلیدی کردار ہے ،ملک میں بہترزرعی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے، زراعت میں خودکفالت کے حصول کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ وسائل کو حقیقی معنوں میں استعمال میں لایاجائے ،گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمدخان کا زرعی یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 جنوری۔2016ء )گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمدخان نے کہاہے کہ ملک میں زراعت دیگر معاشی شعبوں میں بنیادی حیثیت کاحامل شعبہ ہے اور ملکی معیشت کی بہتری میں اس کاکلیدی کردار ہے ۔ ہمارے ملک بالخصوص اس صوبے میں بہترزرعی پیداوار کی صلاحیت موجود ہے۔ زراعت میں خودکفالت کے حصول کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ وسائل کو حقیقی معنوں میں استعمال میں لایاجائے ۔

حکومت ،یونیورسٹیز،شعبہ زراعت اور متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مستحکم کیاجائے اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیاجائے جس سے زراعت کے شعبے میں کی جانیوالی ریسرچ کے فوائد کوکسانوں تک پہنچایاجاسکے اس سے نہ صرف زرعی پیداوار میں بہتری آئیگی بلکہ کسان بھی خوشحال ہو گا اور ملکی معیشت بھی مستحکم ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کوچاہئیے کہ ایسی حکمت عملی ترتیب دی جائے جس سے کسانوں کی مدد کی جائے کیونکہ کسان خوشحال ہوگا تو زرعی پیداوار میں بہتری آئیگی۔

گورنرنے زرعی یونیورسٹی میں قائم کلائمیٹ چینج سینٹر کیلئے 2 ملین روپے دینے کا اعلان بھی کیااور کہاکہ یونیورسٹی میں زراعت پر ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے تحقیق قابل ستائش ہے اور اسے مزید بہترکیاجائے تاکہ زرعی پیداوار کو ماحولیاتی اثرات کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ کسان کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اسے مناسب تربیت بھی دینے کی ضرورت ہے تاکہ پیداوار میں بہتری آسکے اور نہ صرف ملکی سطح پربلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی زرعی اجناس کو برآمد کیاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ قوموں کی ترقی تعلیم کے معیار سے وابستہ ہے اور ہمارے ملکی پیداوارکا زیادہ تر حصہ زراعت پرمشتمل ہے اور اس ضمن میں زراعت کے شعبے میں و ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اعلی تعلیمی اداروں میں معیاری ریسرچ پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاناچاہئیے۔وہ بدھ کے روز زرعی یونیورسٹی کے کانووکیشن 2016کی تقسیم اسنادمیں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے جبکہ اس موقع پر صوبائی وزیرزراعت اکرام اﷲ گنڈاپور، سیکرٹری زراعت سمیت بڑی تعداد میں سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، دانشوروں اور طلباء وطالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی۔

اس موقع پر مجموعی طور پرزرعی سائنسز کے مختلف شعبوں بشمول بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹرسائنس، ویٹرنری سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور رورل سوشیالوجی میں 340 گریجویٹس میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں جن میں سے 24 نے پی ایچ ڈی جبکہ 68 گریجویٹس نے اعلی ترین کارکردگی پر طلائی تمغے اورفاٹا سے تعلق رکھنے والے 4 گریجویٹس نے صدارتی ایوارڈحاصل کئے۔

گورنر جوکہ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں نے کہاکہ ملک میں زراعت دیگر معاشی شعبوں میں بنیادی حیثیت کاحامل شعبہ ہے اور اس حوالے سے روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کے سلسلے میں انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں خاص کر عوام کو ترقی کی کوششوں میں متحرک کرکے اس سلسلے میں کی جانیوالی کوششوں کو زیادہ نتیجہ خیز بنایاجاسکتاہے۔

انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس شعبے میں معیاری ریسرچ کی جائے اور حکومت ،یونیورسٹی، شعبہ زراعت اور متعلقہ ادارے بہترروابط قائم کرے تاکہ اس سے حاصل ہونیوالے فوائد کو حقیقی معنوں میں کسانوں تک پہنچایاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ زرعی وسائل کو جامع پالیسی کے تحت حقیقی معنوں میں استعمال میں لاکر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور خوراک کی پیداوار کو بڑھایاجائے تاکہ ہم اس شعبے میں خودکفالت حاصل کرسکے اور اپنی اجناس کو برآمد بھی کرسکے جس سے معیشت میں بہتری آئیگی۔

انہوں نے کہاکہ قوموں کی ترقی تعلیم سے وابستہ ہے اور ہمارے ملک کی معیشت کا بہتر حصہ زراعت پرمشتمل ہے اور اس ضمن میں زراعت کے شعبے میں و ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اعلی تعلیمی اداروں میں معیاری ریسرچ پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاناچاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ اعلی تعلیمی ادارے ، صوبائی حکومت ، ہائرایجوکیشن کمیشن اور پبلک سیکٹریونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو مل بیٹھ کر ایک جامع لائحہ عمل طے کرناچاہئیے تاکہ اعلی تعلیمی اداروں میں ریسرچ کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کے فوائد سے متعلقہ محکمے اور افراد مستفید ہوسکے۔

انہوں نے کہاکہ کسان کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اسے مناسب تربیت بھی دینے کی ضرورت ہے تاکہ پیداوار میں بہتری آسکے اور نہ صرف ملکی سطح پربلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی ان اجناس کو برآمد کیاجاسکے جس سے نہ صرف کسان خوشحال ہوگا بلکہ ملکی معیشت میں مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اورکسانوں کے درمیان روابط کو بہترکرنے کی ضرورت ہے اورزراعت کے شعبے کی بہتری اورخودکفالت کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کیاجاناچاہئیے۔

گورنرنے اس موقع پر یونیورسٹی میں قائم کلائمیٹ چینج سینٹر کیلئے 2 ملین روپے دینے کا اعلان بھی کیااور کہاکہ یونیورسٹی میں زراعت پر ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے تحقیق قابل ستائش ہے اور اسے مزید بہترکیاجائے تاکہ زرعی پیداوار کو ماحولیاتی اثرات کے نقصانات سے بچایاجاسکے۔گورنر نے فارغ التحصیل ہونے والے گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں اس لئے مقاصد کے حصول کیلئے انہیں مزید محنت کرنی ہوگی اور عزم وحوصلے کے ساتھ جدوجہدکریں گے تو اس کا صلہ ضرور ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ زرعی پیداوار میں اضافے کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں زرعی ماہرین اورسائنسدانوں کو اس چیلنج کو قبول کرناہوگا اوراپنی ذمہ داریوں کو نبھاناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود خوراک کی قلت کا سامناہوتاہے اس کیلئے متعلقہ حکام کو جامع پالیسی ترتیب دینی ہوگی تاکہ اس شعبے میں درپیش مسائل کو حل کیاجاسکے۔

انہوں نے کہاکہ کسانوں ، زراعت سے وابستہ علاقوں میں سرگرم عمل اداروں کے کارکنوں کو بھی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کے مختلف حصوں میں زرعی تعلیمی اداروں کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ تحقیق اورتوسیع کے شعبوں سے وابستہ افرادی قوت کو فعال بنانے سے نہ صرف معیاری تعلیم ، تحقیق اور تحقیقی نتائج کو کسانوں اورمتعلقہ حلقوں تک موثرانداز سے منتقل کیاجاسکے گا بلکہ اس سے زراعت کا شعبہ بھی ترقی کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ زرعی یونیورسٹی نہ صرف صوبے کی اعلی روایات کی امین یونیورسٹی ہے بلکہ اپنی نوعیت کایہ ادارہ پاکستان بھر میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی اپنی موجودہ کامیابیوں پر اکتفا کرنے کی بجائے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزیدبہتر مقام حاصل کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھے۔قبل ازیں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظہور احمدسواتی نے معززمہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارے کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بے پناہ مصروفیات کے باوجود تقریب میں شرکت پر گورنر کا شکریہ اداکیا اور یونیورسٹی کی جانب سے گورنرکوشیلڈبھی پیش کی۔

13/01/2016 - 22:32:49 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان