چین سے اقتصادی راہداری کے بعد امریکہ کے ساتھ علم کی منتقلی کی راہداری کے معاہدے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:32:36 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:32:36 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:29:07 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:25:39 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:24:29 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:23:03 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:20:12 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:11:54 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 22:03:15 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 21:57:18 وقت اشاعت: 06/01/2016 - 21:57:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

چین سے اقتصادی راہداری کے بعد امریکہ کے ساتھ علم کی منتقلی کی راہداری کے معاہدے سے پاکستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوجائے گا ، اقتصادی راہداری 46ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کامنصوبہ ہے ،اس پر عمل درآمد سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی ، بدقسمتی سے ہمارے بعض نادان دوست ذاتی اور سیاسی مفادات کیلئے اس عظیم منصوبے کومتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی تعمیر، ہیپاٹالوجی اور ڈیباٹالوجی کے منصوبوں کی تکمیل سے خطے کے لوگوں کو علاج اور تشخیص کے بہترین مواقع دستیاب ہوں گے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کاکے ایم یو کے نئے اکیڈیمک بلاک اور ملٹی پرپز ہال کے افتتاح ،انسٹی ٹیوٹ آف ہیپاٹالوجی اور ڈیباٹالوجی کے منصوبوں کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 جنوری۔2016ء )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور اصلاحات احسن اقبال نے کہاہے کہ موجودہ حکومت کے چین سے اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد امریکہ کے ساتھ علم کی منتقلی کی راہداری(نالج کوریڈور) کے معاہدے سے پاکستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوجائے گا، اقتصادی راہداری منصوبہ46ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کامنصوبہ ہے جس پر عمل درآمد سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی لیکن بدقسمتی سے ہمارے بعض نادان دوست غلط فہمی یاپھر اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے اس عظیم منصوبے کومتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں،خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) کی 980ملین روپے کے خرچ سے تعمیر کے علاہ ایک ارب روپے کے اخراجات سے ہیپاٹالوجی اور ڈیباٹالوجی کے دومنصوبوں کی تکمیل سے اس خطے کے لوگوں کو علاج اور تشخیص کے بہترین مواقع دستیاب ہوں گے۔

وہ بدھ کو کے ایم یو کے نئے اکیڈیمک بلاک اور ملٹی پرپز ہال کے افتتاح کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف ہیپاٹالوجی اور انسٹی ٹیوٹ آف ڈیباٹالوجی کے دوتعمیراتی منصوبوں کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے بطورمہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حفیظ اﷲ او ررجسٹرار ڈاکٹر فضل محمود کے علاوہ مختلف اداروں کے سربراہان، فیکلٹی، انتظامی سٹاف اور طلباء وطالبات کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

احسن اقبال نے کہا کہ انہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ کے ایم یو نے آٹھ سال کے مختصر عرصے میں ترقی وکامیابی کے کئی زینے طے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم یو ایک سپیشلائزڈ یونیورسٹی ہے جس کا براہ راست تعلق صحت اور علاج سے ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت چاروں صوبوں میں ترقی کو یکساں اہمیت دیتی ہے اور اس ضمن میں آج کے ایم یو میں دو منصوبوں کاافتتاح اور دومنصوبوں کے سنگ بنیادکا رکھاجانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخواکی ترقی کو خاص اہمیت دیتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ46ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کامنصوبہ ہے جس پر عمل درآمد سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی لیکن بدقسمتی سے ہمارے بعض نادان دوست غلط فہمی یاپھر اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے اس عظیم منصوبے کومتنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ لوگ نہ تو ملک وقوم کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ ہی یہ ملک کو ترقی کرتاہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ چین کے اقتصادی راہداری منصوبے کے بعد وزیر اعظم نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں امریکہ کے ساتھ علمی راہداری کے ایک منصوبے پر بھی دستخط کئے ہیں جس کے تحت امریکہ اپنی جامعات میں ہمارے دس ہزار نوجوانوں کو سائنس کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ وژن2025میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل بالخصوص نوجوانوں کی تعلیم وتحقیق اورپیشہ ورانہ تربیت پرخصوصی توجہ دی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کابجٹ48بلین روپے سالانہ سے بڑھاکر 78بلین روپے کردیاہے جس سے ملک میں بہت بڑی تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقتصادی راہداری منصوبے سے چاروں صوبوں ، گلگت ،بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ کے ایم یو کے جاری منصوبوں کا تکمیل کے علاوہ اس کے مستقبل کے دیگر منصوبوں کوبھی تمام ممکنہ وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔

انہو ں نے توقع ظاہر کی کہ نئے منصوبوں کی تکمیل سے خیبرپختونخوا اور فاٹا کے علاوہ افغانستان کے لوگوں کو بھی ہیپاٹائٹس اور ذبابیطس کے امراض کے علاج معالجے کے علاوہ ان دونوں بڑی بیماریوں کی تشخیص اورتحقیق کے مواقع دستیاب ہونگے۔انہوں نے نوجوانوں پرزور دیا کہ انہیں اپنے بہتر مستقبل کے لئے پر امید ہونا چاہیے کیونکہ موجودہ حکومت آپ کو ایک خوشحال اور پرامن پاکستان دینے کے راستے پرگامزن ہے جہاں مایوسی اورناامیدی کے اندھیروں کی بجائے ترقی اور خوشحالی کے یکساں مواقع دستیاب ہونگے۔

قبل ازیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حفیظ اﷲ نے یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی کارکردگی اوریونیورسٹی کی پیش رفت کے حوالے سے شرکاء کے سامنے تفصیلی بریفنگ پیش کی جبکہ وفاقی وزیر برائے ڈویلپمنٹ او رپلاننگ احسن اقبال نے اکیڈیمک بلاک اورملٹی پرپز ہال کا افتتاح کرنے کے علاوہ ایک ارب کے روپے کے دو منصوبوں انسٹی ٹیوٹ آف ہیپا ٹالوجی او رانسٹی ٹیوٹ آف ڈیپاٹالوجی کاسنگ بنیاد بھی رکھا۔

06/01/2016 - 22:23:03 :وقت اشاعت