صوبہ کے پی کے کا بلدیاتی نظام سب سے بہترین نظام ہے، عنایت اللہ خان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:35:07 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:35:07 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:32:01 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:32:01 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:30:21 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:30:21 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:30:21 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:29:08 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:29:06 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:25:19 وقت اشاعت: 05/01/2016 - 22:17:24
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

صوبہ کے پی کے کا بلدیاتی نظام سب سے بہترین نظام ہے، عنایت اللہ خان

گو کہ مسائل بھی ہیں اور ویلج کونسل کی سطح کاپہلا تجربہ ہے , پورے پاکستان میں صرف ہمارے صوبہ میں ویلج کونسل کی سطح کی ایکسرسائز کی گئی ہے، گراس روٹ تک اختیارات کی منتقلی ہمارے منشور کا حصہ ہے ، سینئر صوبائی وزیر

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 جنوری۔2016ء)صوبہ کے پی کے کا بلدیاتی نظام سب سے بہترین نظام ہے گو کہ مسائل بھی ہیں اور ویلج کونسل کی سطح کاپہلا تجربہ ہے اور پورے پاکستان میں صرف ہمارے صوبہ میں ویلج کونسل کی سطح کی ایکسرسائز کی گئی ہے ۔ اور گراس روٹ تک اختیارات کی منتقلی ہمارے منشور کا حصہ ہے ۔ا ن خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے سینئر وزیر صوبہ خیبر پختونخواہ و وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے الخدمت فاؤنڈیشن کی تقریب تقسیم چیک مائکروفنانس اور کونسلر کنونشن بعد ازاں کانگڑہ کالونی میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

۔اس موقع پر تاجر برادری ، وکلا ، صحافی ،اساتذہ ،مختلف مکاتب فکر، ناظمین ، کونسلر ز، ضلع کونسلرز ، تحصیل کونسلرز اور معززین شہر کی ایک خاصی بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اے ڈی پی کا 30فیصد بلدیانی نمائندوں کیلئے مختص کر دیا گیا ہے اور ضلع ہری پورکے ناظمین کیلئے 28کروڑ کی پہلی قسط جاری ہو چکی ہے اور آفس آپریشن کیلئے اضافی 5لاکھ اے ڈی لوکل گورنمنٹ کے ذریعہ سے جاری کر دی گئی ہے۔

اب ناظمین اپنے حلقوں کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے ترقیاتی سکیموں کو جلد از جلد شروع کریں ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی راہنما فرید احمد پراچہ نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اس ملک کے اند رواحد جمہوری جماعت صرف جماعت اسلامی ہے۔۔جماعت اسلامی 1941میں بنی 75ا فراد نے اس کی بنیاد رکھی مولانا مودودی جماعت اسلامی کے فکری راہنما تھے ۔ اور 1947سے لیکر آج تک مسلسل ملک کی نظریاتی ، فکری ،جغرافیائی سرحدو ں کی حفاظت کررہی ہے اور ایک اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کی جدوجہدکر رہی ہے۔

جماعت اسلامی اس ملک کے اند ر ایک اثاثہ اور سرمایہ ہے جماعت اسلامی اس ملک کی زیادہ یونیق اور منفرد جماعت ہے۔جماعت اسلامی میں ہر سطح پر انتخابات ہوتے ہیں۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں کسی دوسری جماعت کے اندر ایسا کوئی سسٹم ہے۔کہ جس میں یہ طریقہ کار موجود ہو۔ مولانا مودودی کا تعلق ہندوستا ن سے تھا۔ اور وہ اگر چاہتے تو اپنے بیٹے کو امیر بنا دیتے ۔

لیکن جماعت اسلامی کا سٹرکچر اورتنظیم اور نظام ایسا تھا کہ اس میں اس بات کی گنجائش نہیں رہی۔میاں محمد طفیل کا تعلق پنجاب سے تھا۔اور قاصی حسین احمد کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا۔سید منور حسن کا تعلق کراچی سے تھا۔اور سراج الحق کا تعلق سرحد کے دور افتادہ پہاڑی علاقہ دیر سے ۔سراج الحق کوئی سرمایہ دار نہیں کسی بہت بڑے سیاسی خاندان سے ان کا تعلق نہیں ہے۔

سراج الحق متوسط طبقے کے لوئر مڈ ل کلاس کے عام آدمی ہیں۔سراج الحق کے کردار نے ہی جماعت اسلامی کے ارکان کو ایٹرکٹ کیا ہے۔اور وہ مرکزی امیر منتخب ہوئے ان کی مسلسل اور انتھک جدوجہد اور ان کا کردار ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ جماعت اسلامی کسی خاندان کی پارٹی نہیں ہے۔فیملی کنگ ڈم نہیں ہے۔کسی خاندان کی جاگیر نہیں ہے۔۔ملک کی واحد جماعت ہے کہ جس پر کسی خاص خاندان کا قبضہ نہیں ہے۔

اسی لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی دوسری جماعتوں سے منفرد ہے ۔ جماعت اسلامی کسی خاص مسلک اور فرقے سے تعلق نہیں رکھتی ہم مسلک نیوٹرل ہیں نہ دیوبندی ، نہ سلفی نہ بریلوی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05/01/2016 - 22:30:21 :وقت اشاعت