وزارتِ ٹیکسٹائل اگلے سال کپاس کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کی بھرپورکوشش کررہی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات دسمبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:21 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:19 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:18 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:16 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:15 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:12 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:09 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:47:08 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:45:14 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:45:14 وقت اشاعت: 22/12/2016 - 18:45:14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

وزارتِ ٹیکسٹائل اگلے سال کپاس کی بھر پور پیداوار حاصل کرنے کی بھرپورکوشش کررہی ہے،طارق محمود

ملتان۔22 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 دسمبر2016ء)سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان نے سیکرٹری حسن اقبال اور کاٹن کمشنروزارتِ ٹیکسٹائل انڈسٹری حکومتِ پاکستان ڈاکٹر خالد عبداللہ کی ہدایات کے تحت پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے کپاس کی کاشت کے علاقوںمیںانہیں آف سیزن میں کپاس کی گلابی سنڈی ، ملی بگ اور سفید مکھی کا کنٹرول، زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ نئی اقسام کی پیداواری ٹیکنالوجی، کپاس کے بیج کو محفوظ کرنے اورزمین کے تجزیہ کی اہمیت کے موضوعات پر آگاہی پروگرامز کا آغاز کردیا ہے تاکہ آئندہ سال کپاس کے کاشت کار اپنی فصل سے بھرپور پیداوار حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرسکیں۔

یہ بات طارق محمود ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان نے کپاس کی منافع بخش کاشت کی منصوبہ بندی برائے 2017 کے موضوع پر انسٹیٹیوٹ میںمنعقدہ ایک روزہ فارمرز ٹریننگ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کی ۔ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ اکنامک ریسرچ، پی سی سی سی، ڈاکٹر محمد علی تالپور نے کسانوں کو مشورہ دیا کہاآئندہ سال زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کپاس کاشت کریں کیونکہ 2017میں کسانوں کو پھٹی کے اچھے ریٹ ملنے کی قوی امید ہے اس موقع پرڈاکٹر محمد نوید، سربراہ شعبہ اینٹومالوجی، سی سی آر آئی ملتان نے کہا کپاس کی گلابی سنڈی ، ملی بگ اور سفید مکھی نے پچھلے سالوں میں کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اگلے سال کی فصل کو ان ضرر رساں کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لئے ابھی سے حکمتِ عملی بنانا ہو گی ، جس میں ان کے میزبان پودوں اور دیگرسہولت کار عوامل سے آگاہی حاصل کر کے اس پر عملدرآمد کرنا بہت ضروری ہے تاکہ یہ کیڑے اگلے سال کی فصل پر شدید حملہ نہ کرسکیں اور کاشت کار معاشی نقصان سے محفوظ رہے۔ ڈاکٹر فیاض احمد، سربراہ شعبہ فزیالوجی، سی سی آر آئی ملتان نے زمین کے تجزیہ کی اہمیت اور اسکی افادیت بارے کاشت کاروں کو تفصیلاً آگاہ کیا۔

ڈاکٹر محمد ادریس، سربراہ شعبہ بریڈنگ، سی سی آر آئی ملتان نے اپنے ادارے کی زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل منظور شدہ نئی اقسام کی پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہی دی ۔ڈاکٹر ریحانہ انجم سینئر سائنٹیفک آفیسر شعبہ پلانٹ بریڈنگ نے کپاس کے بیج کو محفوظ کرنے کے طریقوں سے کاشت کاروں کو آگا ہ کیا۔ڈاکٹر رابعہ سعید سینئر سائنٹیفک آفیسر شعبہ اینٹو مالوجی نے کاشت کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ کپاس یکم مئی سے پہلے کاشت نہ کریں اور اگر بی ٹی قسم بھی کاشت کریں تو اس پر گلابی سنڈی کے خلاف سپرے کریں ۔ اس پروگرام میں کپاس کے کاشت کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور نہوں نے اس پروگرام کو کپاس کی آنے والی فصل کے لئے نہایت مفید قرار دیا۔
22/12/2016 - 18:47:12 :وقت اشاعت