صرف محمد رسول ؐ کی ذات ہی ایک مکمل نمونہ ہے۔وائس چانسلرڈاکٹرطاہرامین
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ دسمبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:18 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:16 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:14 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:13 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:11 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:09 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:07 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:42:05 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:41:03 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:41:01 وقت اشاعت: 14/12/2016 - 22:25:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

صرف محمد رسول ؐ کی ذات ہی ایک مکمل نمونہ ہے۔وائس چانسلرڈاکٹرطاہرامین

ملتان۔14 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 دسمبر2016ء)اس وقت دنیا میں کئی ورلڈ آرڈر چل رہے ہیں تاہم سب میں ایک بات مشترک ہے کہ ان آرڈرکے لیڈرز کا دامن ان اعلی خصوصیات سے خالی ہے جو ایک دیرپا، پرامن اور مکمل انقلاب کا پیش خیمہ ہوتے ہیں ․ دنیا کو پر امن انقلاب اور اعلی ترین ورلڈ آرڈر سے اس دور میں اگر متعارف کروایا جاسکتا ہے تو اس کے لیے صرف محمد رسول ؐ کی ذات ایک مکمل نمونہ ہی․ جو انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسے اوصاف سے متصف تھے جو دنیا میں قیادت سازی کی ایک بہترین تربیت گاہ تھی․ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین وائس چانسلر بہا ء الدین زکریایونیورسٹی ملتان نے کیا, وہ یہاں شعبہ علوم اسلامیہ اور سیرت چیئر کے زیراہتمام بین الاقوامی سیرت کانفرنس سے خطاب کررہے تھی․انہوں نے کہاکہ موجودہ دگرگوں حالات میں مسلمان رہنمائوں کے لیے بھی اسوہ حسنہ سے امید کی روشنیاں پھوٹتی ہیں ․ سیرت کانفرنس سے عالم اسلام کے معروف محقق اور سیرت نگار، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انڈیا کے مایہ ناز پروفیسر ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان معاشروں میں برپا تکفیر اور قتل و غارت گری کی وبا کا علاج اسوہ حسنہ رسولؐ میں سے صبر و تحمل اور برداشت و بردباری کی خصوصیات پر عمل کرکے کیا جاسکتا ہے ․ انہوں نے کہاکہ حضورؐنے انتہائی نامساعد حالات میں بھی صبر و تحمل اور برداشت کا دامن ہرگز ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑنے دیا․ دوسری طرف آپ نے اپنے اقتدار کے عروج کے ایام میں بھی رواداری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/12/2016 - 22:42:09 :وقت اشاعت