تمام اپوزیشن جماعتوں کو ٹی او آرز پر اتفاق کرتے ہو ئے عدالتی کمیشن پر ایک موقف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ دسمبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:53:57 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:53:55 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:53:52 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:30 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:28 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:26 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:24 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:23 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:22 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:20 وقت اشاعت: 10/12/2016 - 18:51:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

ملتان شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 27/02/2017 - 12:35:00 وقت اشاعت: 26/02/2017 - 17:22:34 وقت اشاعت: 26/02/2017 - 18:00:33 وقت اشاعت: 26/02/2017 - 18:00:34 وقت اشاعت: 26/02/2017 - 18:00:35 وقت اشاعت: 26/02/2017 - 18:00:36 ملتان کی مزید خبریں

تمام اپوزیشن جماعتوں کو ٹی او آرز پر اتفاق کرتے ہو ئے عدالتی کمیشن پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے،نئے چیف جسٹس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پاناما لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے عدالتی کمیشن بنائیں گے

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کی ملتان میں میڈیا سے بات چیت

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 دسمبر2016ء) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ٹی او آرز پر اتفاق کرتے ہو ئے عدالتی کمیشن پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے اور عوامی دبائو کے زریعے عدالتی کمیشن کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیں تاکہ کمیشن مضبوط ہو اور کرپشن کرنے والے بے نقاب ہوں ۔نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ پاناما لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے عدالتی کمیشن بنائیں گے۔

وہ ہفتہ کو ریلوے کلب میں نجی سکول کے زیراہتمام فیملی فیسٹیول کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر آصف محمود اخوانی اور کنور محمد صدیق بھی ہمراہ تھے۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری وفوجی حکومتیں رہیں لیکن گڈ گورننس پیدا نہیں ہو سکی ۔پاکستان اندرونی و بیرونی بحرانوں اور چیلنجز سے دوچار ہے۔

نظریاتی ، معاشی اور انتخابی کرپشن ہے۔ دنیا میں مشکلات کا سامنا ہے اور دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے لیکن یہاں نہ وزیر دفاع ہے نہ وزیر خارجہ ہے۔ سانحہ حویلیاں پر حکومت اپنے آپ کو بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 2018کے انتخابات کی تیاری کر رہی ہے اور اب دھرنے یا لانگ مارچ کی بجائے 2018کے انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے۔

اسی وجہ سے دینی جماعتوں کا بھی انتخابات کے حوالے سے رابطے کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی دلدل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اقدامات کو یقینی بنانا ہو گا جس کی وجہ سے ملک بدحال ہو چکا ہے اور عوام بھی بدحالی کا شکار ہے کرپشن انفرادی ہو یا اجتماعی یا اداروں میں ہو یا ریاستی سطح پر کرپشن سے حقیقی معنوں میں نجات حاصل کرنا ہو گی انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا پہلے بھی موقف تھا کہ پانامہ لیکس پر عدالتی کمیشن بنایا جا ئے اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی سرخرو ہو ئی ہے عدالتی کمیشن ترجیحی بنیادوں پر ٹرائل کرے تاکہ کرپٹ لوگ بے نقاب ہوں انہوں نے کہا کہ عمران خان جس وقت چاہیئں اپنا نیا موقف اختیار کر لیتے ہیں لیکن جماعت اسلامی کا جس موقف پر رہی اس پر سرخرو بھی ہو ئی اب پانامہ لیکس معاملے کو منطقی انجام تک جلد از جلد پہنچنا چاہیئے اور نئے چیف جسٹس جو اس اہم منصب پر فائز ہو ئے ہیں پانامہ کو حتمی طور پر ایک طر ف لگائیں انہوں نے کہا کہ حویلیاں سانحہ پر پوری قوم کو صدمہ ہے دنیا میں سب سے زیادہ پی آئی اے کے حادثات ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن بہتری کی طرف جانے کے لئے عملی طور پر اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔

10/12/2016 - 18:51:26 :وقت اشاعت