محکمہ زراعت کی آم کے باغبانوں کوسردیوں میں پھل کو کورے سے بچانے کی ہدایت
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل دسمبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:13:31 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:13:30 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:13:28 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:13:26 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:13:25 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:12:53 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:12:51 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:12:50 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:05:40 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:05:38 وقت اشاعت: 06/12/2016 - 17:05:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

محکمہ زراعت کی آم کے باغبانوں کوسردیوں میں پھل کو کورے سے بچانے کی ہدایت

ملتان۔6 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2016ء)محکمہ زراعت پنجاب ملتان کے مطابق موسمی تغیرات کی وجہ سے گرمیوں اور سردیوں کے دورانیہ اور وقت میں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ ان موسمی تغیرات کی وجہ سے آم کی خوابیدگی پر منفی اثر پڑا ہے جس کے نتیجہ میں آم کے پودے وقت سے پہلے پھول نکال لیتے ہیں جو سردی آنے پر مر جاتے ہیںیا پھر پودے نباتاتی نشوونما کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

باغبانوں کو چاہیے کہ وہ پودوں کو غذائی اجزاء کی فراہمی، آبپاشی، بیماریوں اور ضرررساں کیڑوں کے کنٹرول، دھند اور کورے جیسے عوامل کا خاص خیال رکھیں تاکہ آم کے پودوں کی خوابیدگی متاثر نہ ہو اور پودوں پر زیادہ سے زیادہ پھولوں کے شگوفے نکلیں اور پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔محکمہ زراعت ملتان کے ترجمان کے مطابق سردیوں میں آم کے باغات کو کورے سے نہ بچایا جائے تو پھولوں کے شگوفے والی بڈ کورے سے متاثر ہوتی ہے۔

جب آم کے پودوں پر پھول نکلنے کاوقت آتا ہے تو پودوں سے پھولوں کے شگوفے نکلنے کی بجائے نباتاتی شگوفے نکلتے ہیں۔ خوابیدگی کے دوران آم کے پودوں کو کورے سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔ آم کے باغات کی آبپاشی ستمبر تا وسط جنوری روکنے کی سفارش کی جاتی ہے تاکہ آم کے پودے خوابیدگی میں جا سکیںاور نباتاتی نشوونما نہ ہو سکے تاہم کورے کی راتوںمیں ہلکی آبپاشی ضرور کریں۔

باغبان آم کے باغات میں دوسری فصلیںمثلاً برسیم اور گندم وغیرہ کاشت کرتے ہیں۔ ان فصلوں کو نائٹروجنی کھاد اور آبپاشی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/12/2016 - 17:12:53 :وقت اشاعت