ْ عمران خان یا بلاول بھٹو میں سکت ہے تو تحریک چلا کردیکھ لیں ، میدان کھلا ہے ، عابد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر دسمبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:54 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:54 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:52 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:50 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:49 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:28:49 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:27:42 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:27:42 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:27:42 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:27:42 وقت اشاعت: 05/12/2016 - 20:27:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

ْ عمران خان یا بلاول بھٹو میں سکت ہے تو تحریک چلا کردیکھ لیں ، میدان کھلا ہے ، عابد شیر علی

عمران خان نے پہلے نوازشریف پر منی لانڈرنگ اور دھاندلی کا الزام لگایا اب پانامہ لے آئے ہیں ان کے پلے کچھ نہیں ، وزیر مملکت پانی و بجلی , کہ وزیراعظم پاکستان کی کمٹمنٹ کے مطابق ہم 2018ء میں نیشنل گریڈ میں 10,000میگاواٹ بجلی شامل کردیں گے , دیامر ڈیم پر کام شروع ہوچکا ہے ، پہلے مشرف پھر راجہ اشرف اور پھر یوسف رضا گیلانی نے اپنے اپنے نام کی تحتیاں لگوائیں مگر خرچ کچھ نہ کیا،میپکو ہیڈ کوارٹر ملتان میں پریس کانفرنس

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2016ء)پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہوں یا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اگر ان میں سکت ہے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تو میدان کھلا ہے،ہم بھی تیار ہیں،عمران خان اور بلاول بھٹو شیشے کے گھر میں بیٹھ کر کیچڑ نہ اچھالیں۔یہ بات انہوں نے گزشتہ شام میپکو ہیڈ کوارٹر ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے پہلے نوازشریف پر منی لانڈرنگ اور دھاندلی کا الزام لگایا اب پانامہ لے آئے ہیں ان کے پلے کچھ نہیں ہے،یہ جو باتیں کر رہے ہیں ہمارے دئیے ہوئے کاغذات پر کر رہے ہیں،میں چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ عمران خان کے کورٹ سے نکلنے کے بعد دئیے گئے بیانات کا نوٹس لیں اور انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی کمٹمنٹ کے مطابق ہم 2018ء میں نیشنل گریڈ میں 10,000میگاواٹ بجلی شامل کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت نیپکو ملٰتان میں 365 فیڈرز ایسے ہیں جہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی اور اسی طرح دیہات اور ٹیوب ویلز کیلئے 553فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی البتہ 56فیڈرز ہائی لائن لاسز ہیں جہاں 30سی40فیصد لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ1211فیڈرز ایسے ہیں جہاں کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔انہوں نے مرید کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں 10ارب روپے خرچ کئے گئے اور اس سال بھی 10ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم گریڈسیکٹر میں ٹرانسفارمرز بھی تبدیل کر رہے ہں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 200 دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی کیلئی2.9ملین روپے رکھے ہیں اور ان کی لائنیں بھی تبدیل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی کمی کے باعث پاکستان کیلئے مشکلات ہیں،دیامر ڈیم پر کام شروع ہوچکا ہے جبکہ اس ڈیم کیلئے پہلے مشرف پھر راجہ اشرف اور پھر یوسف رضا گیلانی نے اپنے اپنے نام کی تحتیاں لگوائیں مگر خرچ کچھ نہ کیا۔انہوں نے کہا کہ داسو ڈیم پر بھی اگلے سال کام شروع ہوجائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا کی حکومت کو ڈانسر وزیراعلیٰ ملا ہے،ہم نے وہاں گرڈ لگانے کیلئے زمین مانگی جو آج تک مہیا نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بجلی چوروں کی سزا لوڈشیڈنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام کام شفافیت پر مبنی ہیں اور ہم تمام کام نیک نیتی سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور ان کی فیملی پر الزامات لگانا ان کی روش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم موٹروے سی پیک اور گوادر منصوبے بنا رہے ہیںجس سے ملک میں ترقی ہوگی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سرتاج عزیز کو بھارت بھیج کر حکومت نے درست فیصلہ کیا کیونکہ بھارت پاکستان کو ایسولیٹ کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سفارتی جنگ بھی اپنی خارجہ پارلیسی کے بعد جیتی ہے۔عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔قادری صاحب کو کہتا ہوں کہ آپ اللہ اللہ کریں،یہ کونسلر بھی نہیں بن سکتا۔عابد شیرعلی نے مزید کہا کہ مولابخش چانڈیو میرے بزرگ ہیںمیں ان کیلئے خیرکی دعا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ہماری پارٹی سندھ میں بھی کامیاب ہوگی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بسنت فیسٹیول ایک اچھا فیسٹیول ہے اگر اس میں قاتل ڈور سے لوگوں کی گردنیں نہ کٹیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی کئی ارکان اسمبلی نے نیپکو کے حوالے سے شکایتیں کی ہیں،میں ارکان اسمبلی اور صحافیوں کی تمام شکایتیں دور کروں گا۔۔۔(ولی)
05/12/2016 - 20:28:49 :وقت اشاعت