لوٹ مار کرنے والے حکمران عوام کی نظروں میں گر گئے، اب قطری اور سعودی شہزادوں کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:49:34 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:49:21 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:49:19 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:45:18 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:45:15 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:45:13 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:45:12 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:45:04 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:42:38 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:42:38 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 20:42:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

لوٹ مار کرنے والے حکمران عوام کی نظروں میں گر گئے، اب قطری اور سعودی شہزادوں کے آنے کے باوجود بھی ان کی عوام میں عزت بحال نہ ہو سکے گی، سپریم کورٹ بلاامتیاز احتساب کے لئے کمیشن بنا ئے،میاںنواز شریف سمیت سب کااحتساب ہونا چاہیے،ہم نے بائیکاٹ سے توبہ کرلی ، آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی ایک بڑی قوت بن کر سامنے آئے گی

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا ملتان میں ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء اور صبحانہ کی تقریب سے خطاب

.ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2016ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بلاامتیاز احتساب کے لئے کمیشن بنا ئے ،میاںنواز شریف سمیت سب کااحتساب ہونا چاہیے اور احتساب کے عمل کا آغاز مجھ سے کیا جائے۔ ملک کا 70بلین ڈالر قرضہ ہے لیکن کرپٹ افراد نی370بلین ڈالر باہر کے ملکوں میں رکھے ہو ئے ہیں ،لوٹ مار کرنے والے حکمران عوام کی نظروں میں گر گئے ہیں ، اسی لئے اب قطری اور سعودی شہزادوں کے آنے کے باوجود بھی ان کی عوام میں عزت بحال نہ ہو سکے گی۔

جماعت اسلامی قومی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔ آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی ایک بڑی قوت بن کر سامنے آئے گی۔ ہم نے بائیکاٹ سے توبہ کرلی ہے۔جنوبی پنجاب کے وکلاء کو نظر انداز کرکے اس خطے کے ساتھ ناانصافی و زیادتی کی گئی یہی وجہ ہے کہ آج وکلاء جیسا باشعور طبقہ اپنے اور عوام کے حقوق کے لئے الگ صوبے کے قیام کی تحریک کا آغاز کر چکا ہے وکلاء اور اس خطے کی عوام کے ہم ساتھ ہیں اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں پاکستان بھی ایک وکیل نے بنایا تھا کسی سیاستدان، جاگیردار اور جرنیل نے نہیں بنایا تھا اور پاکستان کو بھی بچانے میں وکلاء کی جدوجہد کامیاب ہو گی۔

وہ جمعرات کو ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاء کے ایک بڑے اجتماع اور الخدمت فاونڈیشن کی طرف سے دئیے گئے صبحانہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔جس کی صدارت ڈسٹرکٹ بار کے صدر عظیم الحق پیرزادہ نے کی اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے صدر شیخ جمشید حیات ، ضلعی امیر آصف محمود اخوانی ، ڈ سٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری محمد عمران خان خاکوانی ،ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکریٹری چوہدری عمر حیات سمیت مرزا عزیز اکبر بیگ، حبیب اللہ شاکر، سید اطہر حسن شاہ بخاری، شیر زمان قریشی، رفیع کھادل، کنور محمد صدیق بھی موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہاکہ میں ایک نئے پاکستان کی تلاش میں نکلا ہوں جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور مظلوم کو اس کے دروازے پر انصاف ملے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج وکیل انصاف لینے کے لئے مظلوم بنے ہوئے ہیں جنوبی پنجاب میں ہزاروں کی تعداد میں قابل وکلاء ہیں لیکن ان کے ساتھ ناانصافی وزیادتی کی گئی اور ایک جج بھی نہیں لیا گیایہی وجہ ہے کہ ملک دوحصوں میں تقسیم ہوا اور آج پھر جنوبی پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں عوام میں احساس محرومی پایا جاتا ہے جنوبی پنجاب سمیت دیگر انتظامی یونٹ بنائے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ نہ تعلیم ہے نہ صحت اور نہ ہی روزگار ہے دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم جیسی دولت سے محروم ہیں علاج کے لئے ہسپتال نہیں اور نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیکر مارے مارے پھر رہے ہیں اور سماجی برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں صورتحال یہ ہے کہ حکمرانوں، وزراء ، جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ داروں کے بچوں کے لئے الگ نظام تعلیم ہے اور غریب بچوں کے لئے الگ نظام تعلیم ہے جو ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر مجھے مقتدر ایوانوں میں آنے کا موقع ملا تو ملک کے تمام بچوں کے لئے یکساں نظام تعلیم ہوگا 2.42فی صد بجٹ بڑھا کر پانچ فی صد کر دیا جائے گا اسی طرح اتنے ہسپتال بنائیں گے کہ علاج کے لئے وزیراعظم کو لندن نہیں جانا پڑے گا انصاف کا بول بالا رکھنے کے لئے آئین و قانون کی مکمل طور پر حکمرانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 70سالہ بزرگوں اور بے روزگاروں کو روزگار الائونس دیا جائے گا اسی طرح یونین کونسل سے لیکر اسمبلی تک وہ لوگ جائیں گے جو جائیداد میں سے اپنی بیوی اور بیٹی کو حصہ دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ کتوں اور گھوڑوں کو مکھن اور دیگر چیزیں کھلانے کے لئے حکمرانوں کے پاس تو الگ بجٹ ہوتا ہے صدر ،وزیراعظم کے ایک

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

24/11/2016 - 20:45:13 :وقت اشاعت