ٹیوب ویلوں کے انرجی آڈٹ سے توانائی کی بچت میں خاطر خواہ مدد ملے گی،رائوآصف علی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:52:33 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:45:01 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:45:01 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:45:01 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:45:01 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:27:22 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:27:18 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:27:17 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:27:16 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:27:12 وقت اشاعت: 24/11/2016 - 16:22:59
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

ٹیوب ویلوں کے انرجی آڈٹ سے توانائی کی بچت میں خاطر خواہ مدد ملے گی،رائوآصف علی

ملتان۔24 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2016ء)ٹیوب ویلوں کے انرجی آڈٹ سے توانائی کی بچت میں خاطر خواہ مدد ملے گی اس سلسلہ میں حاصل کردہ تربیت سے انجینئرز کو سرکاری فرائض سمیت ایک مشن کے طورپر کام سرانجام دینا ہوگا۔ یہ بات وائس چانسلر محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر رائو آصف علی نے ’’الیکٹرک رزسٹیوٹی میٹر سروے ٹیکنالوجی اینڈ انرجی آڈٹ آف ٹیوب ویل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ ٹریننگ کے اختتام پر شرکاء کو سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وائس چانسلر نے کہا کہ ٹیوب ویلوں پر سبسڈی سے ان کی انرجی سیونگ کی اہمیت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگ زرعی انجینئرز ہیں ایسے پروگراموں میں نہ صرف کیپسٹی بلڈنگ بلکہ ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی اور محکمہ زراعت کا مقصد کاشتکاروں کی رہنمائی ہے لہٰذا ہمیں مل جل کر ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتے رہنا چاہیے تاکہ کاشتکاروں کی بھلائی کیلئے بہتر حل نکالے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں زرعی مقصد کیلئے پانی کا بہت زیادہ ضیاع کیا جاتا ہے ۔ اسے کم سے کم کرنے کیلئے ہمیں جدید ٹیکنالوجی سے کاشتکاروں کو آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی پنجاب میں 7 الیکٹرک رزسٹیوٹی میٹر دئیے گئے ہیں جس کے تحت ہر ماہ 10 ٹیوب ویلوں کا انرجی آڈٹ کیا جائے گا تاکہ ٹیوب ویل آپریشن میں فیول اور بجلی کے نقصانات کو کم کیا جاسکے۔اس موقع پر ڈائریکٹر زرعی انجینئرنگ محمد ایوب ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں، زرعی انجینئر طارق شاہین سمیت جنوبی پنجاب سے محکمہ زراعت کے انجینئرز موجود تھے۔
24/11/2016 - 16:27:22 :وقت اشاعت