عمران خان کے پیچھے کوئی قوت نہیں تین مدفون سیاسی ممیاں ہیں ،نئے پاکستان کی تعمیر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مئی

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/05/2014 - 18:13:17 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 17:40:38 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 17:40:38 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 17:40:38 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 17:12:20 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 17:12:20 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 16:43:06 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 16:28:17 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 16:28:17 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 15:46:53 وقت اشاعت: 11/05/2014 - 15:46:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

عمران خان کے پیچھے کوئی قوت نہیں تین مدفون سیاسی ممیاں ہیں ،نئے پاکستان کی تعمیر چلے ہوئے کارتوسوں سے کرنا چاہتے ہیں‘ سعد رفیق،کرکٹ اور قوم کی کپتانی الگ الگ کام ہے ،ان کے بچگانہ اور انا پرست طرز عمل کی وجہ سے انہیں ووٹ دینے والے بھی پچھتا رہے ہیں،قوم 11مئی کو طاہر القادری کو بڑا مس کر رہی ہے ،وہ پاکستان میں ہوتے تو قوم انکے کنٹینر میں بند ہو کر کرتب اور اچھل کود ہی دیکھ لیتی ،پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس کی وجہ سے عوام نے اسے پیچھے دھکیل دیا ،چاہتے ہیں عمران خان فارغ نہ ہوں (ن) لیگ کیلئے چیلنج موجود رہے،ڈبلیو ایچ او کے مطابق پشاور میں پولیو کا ذخیرہ ہے ،شام منتقل ہونیوالا وائرس پشاور سے گیا ‘ وزیر ریلوے کی مشیر صحت سلمان رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11مئی۔2014ء) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کے پیچھے کوئی قوت نہیں بلکہ تین مدفون سیاسی ممیاں ہیں ،حسد اور انا سے مجبور عمران خان قوم کے مسترد شدہ کچرا سیاستدانوں پر تکیہ کرنے لگے ہیں اور وہ نئے پاکستان کی تعمیر چلے ہوئے کارتوسوں کو ساتھ لر کے کرنا چاہتے ہیں ،ا گر عمران خان نے انتخابی تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے تو ٹربیونلز میں آئیں اور ثبوت لائیں ،سیاسی تنازعات کو حل کرنا ہیں تو پارلیمنٹ میں آئیں اور اگر ملک و قوم کا وقت ضائع کرنا ہے تو شوق سے سڑکوں پر جائیں ،کرکٹ اور قوم کی کپتانی الگ الگ کام ہے اور انکے بچگانہ اور انا پرست طرز عمل کی وجہ سے انہیں ووٹ دینے والے بھی پچھتا رہے ہیں ،قوم 11مئی کو طاہر القادری کو بڑا مس کر رہی ہے اگر وہ پاکستان میں ہوتے تو قوم انکے کنٹینر میں بند ہو کر کرتب اور اچھل کود ہی دیکھ لیتی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز وزیر اعلیٰ کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ،ڈرون حملوں کی بندش،نامساعد اور پیچیدہ حالات کے باوجود امن مذاکرات کا آغاز ،خود کش حملوں میں نمایاں کمی ،روپے کی قدر میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ بحران پر قابو پانے کیلئے متعدد منصوبوں کا اجراء اور آغاز ،غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی طرف رخ ،ڈیموں کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی ،ریلوے سمیت دیگر قومی اداروں کی تنظیم نو کی طرف پیشرفت ،پاکستان کے ہمسایوں کے ساتھ بقائے باہمی تعلقات مسلم لیگ (ن) کی گیارہ ماہ کی حکومت کے سنگ میل ہیں ۔

برسوں بعد عالمی مالیاتی اداروں نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان فنانشل ڈسپلن کی طرف بڑ ھ رہا ہے ۔چین اور ترکی سمیت یورپین ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن چند لوگوں کو پاکستان کا استحکام اور خوشحالی قبول نہیں ہے اور بد قسمتی سے اس ٹولے کی قیادت نو آموز لیڈر عمران خان کر رہے ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سونامی کے عذاب سے محفوظ رکھے ۔

عمران خان کو نہ الفاظ کا چناؤ کرنا آتا ہے اور نہ ٹیم تشکیل دینی آتی ہے ۔ وہ ممیوں اور ڈمیوں کی سیاست کر رہے ہیں ۔ طاہر القادری ،پرویز الٰہی اور شیخ رشید مدفون سیاسی ممیاں ہیں اور عمران خان جیتے جاگتے نوجوانوں کو چھوڑ کر ممیوں اور ڈمیوں کی سیاست کر رہے ہیں ۔ عمران خان کو نحوست زدہ الفاظ اور آسیب زدہ اتحادی بہت پسند ہیں ۔ عمران خان جس نظام پر تنقید کر رہے ہیں اور جسے دھاندلی کی پیداوار کہہ رہے ہیں خود اسی کا حصہ بھی ہیں وہ جس اسپیکر پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں کامیابی کے بعد انہیں سے رکنیت کا حلف لیتے ہیں ۔

وہ جہاں جیت جائیں وہ ٹھیک ہے اور جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی ہوئی ہے ۔ ہم نے آج تک ایسی غیر سنجیدہ سیاست نہیں دیکھی ۔ انہوں نے کہا کہ دعا کریں کہ اسلام آباد کا موسم ٹھیک رہے اگر موسم چھلکتا رہا تو خطرہ ہے کہ عمران خان حسب روایت حکومت کا موسم سے میچ فکس کرنے کا الزام نہ لگا دیں۔عمران خان کو صرف دھاندلی اور میچ فکسنگ کے الفاظ آتے ہیں۔

عمران خان میچ فکسنگ اور دھاندلی فوبیا سے باہر آئیں اور اب بڑے ہو جائیں ۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 34نشستیں ہیں اور یہ بڑا اثاثہ ہیں انہیں حکومت کو آئینہ دکھانے کے لئے اور اچھی قانون سازی کے لئے استعمال کریں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ میں جو گل کھلائے جارہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔ آئندہ انتخابات میں باتوں ،نعروں اور الزامات سے نہیں بلکہ کارکردگی سے مقابلہ ہوگا ۔

عمران خان چار حلقوں کی بات کرتے ہیں لیکن انکی نیت کچھ اور ہے لیکن میں اپنی پیشکش کو دوبارہ دہراتا ہوں کہ چار ہمارے اور چار اپنے حلقے لے لیں اور قومی اسمبلی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنا دیں او روہ فیصلہ کرے ۔ اسکے علاوہ کسی اور فوم ،ٹربیونل ،عدالت عظمیٰ میں جانا ہے یا ایک دوسرے کو مطمئن کرنا ہے کر لیں لیکن نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 38نشستوں پر اپنے امیدوار ہی کھڑے نہیں کئے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/05/2014 - 17:12:20 :وقت اشاعت