جماعت اسلامی کسی ایسی تحریک کا حصہ ہر گز نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ مئی

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/05/2014 - 21:57:14 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 21:35:00 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 21:15:34 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 21:09:06 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:51:23 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:42:33 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:40:11 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:40:11 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:40:11 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:13:50 وقت اشاعت: 10/05/2014 - 20:13:50
- مزید خبریں

لاہور

جماعت اسلامی کسی ایسی تحریک کا حصہ ہر گز نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو‘ سراج الحق ،حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لابٹھانا بڑی کامیابی ہے، کل جلسے میں مستقبل کی سیاسی جدوجہد کیلئے روڈ میپ دیں گے،اب تک تو جمہوریت ہو یا مارشل لاء ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ ہی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتا ہے‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10مئی۔2014ء)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کسی ایسی تحریک کا حصہ ہر گز نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، کل( اتوار ) 11مئی کو لاہور کے جلسے میں مستقبل کی سیاسی جدوجہد کیلئے روڈ میپ دیں گے ،ملک بھر کے غریبوں ،مظلوموں اورنوجوانوں کو اکھٹا کرکے ملک میں پرامن اور آئینی ذرائع سے تبدیلی لائیں گے، خیبر پختونخوا میں وزراء کی تبدیلی تحریک انصاف کا ااندرونی معاملہ ہے ملک میں بد امنی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات ہی واحد آپشن ہے حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لابٹھانا بڑی کامیابی ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز المرکز اسلامی میں جے یو پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں شاہ اویس نورانی نے سراج الحق سے ملاقات کی اور انہیں امیر جماعت منتخب ہونے پر مبارک باد دی ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم نوازشریف کو طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا تھا اور اب یہ نوازحکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن مذاکرات کو آگے بڑھائیں کیونکہ ملک میں جاری بدامنی اور آپریشنوں کے ذریعے ملک کی معیشت کو شدید نقصانات اٹھانا پڑ ے ہیں اور لوگوں کا امن و سکون چھین گیا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اگر خدانخواستہ حکومت طالبان مذاکرات کا موجودہ سلسلہ ناکام ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں ازسرنو مذاکرات شروع کرنے ہوں گے اور مذاکرات ہی کی رہ اپنانا ہوگی کیونکہ آپریشنوں کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق اور پروفیسر محمد ابراہیم خان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے اپنا کردار خوش

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/05/2014 - 20:42:33 :وقت اشاعت