جبری مشقت کیخلاف سینیٹ میں بل لے کر آؤں گا‘ سینیٹر میر حاصل بزنجو،مزدوروں کی رجسٹریشن ،سکیورٹی کارڈ اور طے کردہ اجرت کی فراہمی پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے ‘ کنونشن سے خطاب،غریب اور متوسط طبقہ اسی فیصد ہے ،اکٹھا ہو جائے تو یہاں سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیگا‘ گلوکار جواد احمد

جمعرات 1 مئی 2014 19:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔1مئی۔2014ء) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ جبری مشقت کیخلاف سینیٹ میں بل لے کر آؤں گا ،مزدوروں کی رجسٹریشن ،سکیورٹی کارڈ اور طے کردہ اجرت کی فراہمی پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

قبل ازیں لارنس روڈ سے ایوان اقبال تک ریلی نکالی گئی جس میں مزدوروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ ایوان اقبال میں منعقدہ سیمینار میں صوبائی وزیر ذکیہ شاہنواز، غلام فاطمہ ،مہر صفدر ‘ آئی اے رحمان، گلوکار جواد احمد اور دیگر نے بھی شرکت کی ۔ میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کے لئے قوانین تو بنتے ہیں لیکن اس پر اس طرح عملدرآمد نہیں ہوپاتا جسکی ضرورت ہے ، پنجاب میں جبری مشقت کا خاتمہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اسے چاہیے کہ مزدوروں کی رجسٹریشن ، انہیں سکیورٹی کارڈ اور طے کردہ اجرت کی فراہمی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے ۔

(جاری ہے)

گلوکار جواد احمد نے کہا کہ یہاں اقتدار میں آنے والی تمام جماعتوں کا اپنا اپنا منشور ہے ۔ غریب اور متوسط طبقہ اسی فیصد ہے اگر یہ اکٹھا ہو جائے تو یہاں سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا ۔ انہوں نے کہ کہا کہ اگر یہاں کا مزدور، کسان اور محنت کش اکٹھا ہو جائے تو انکی حکومت آئے گی اور پھر ان کا منشور ہوگا۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اورمزدوروں کے حقوق پر روشنی ڈالی ۔ بعد ازاں شام کے وقت باغ جناح سے پریس کلب تک مشعل بردار ریلی نکالی گئی۔

متعلقہ عنوان :

لاہور میں شائع ہونے والی مزید خبریں