لاہور ،حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:57:33 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:57:33 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:13:54 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:05:50 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:05:50 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 21:05:50 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 20:38:08 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 20:38:08 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 20:38:08 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 20:30:46 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 20:30:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

لاہور ،حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے ، جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرے کے دوران میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر نگرانی کمیشن سے حملے کی تحقیقات کرائی جائیں،مطالبہ، پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائینگے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اپریل۔2014ء)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرے کے دوران میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا ۔سینئر صحافی حامد میر پرحملے کے خلاف لاہور پریس کلب کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی ایف یوجے، پی یوجے اور صحافیوں کی مختلف تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری،سیکرٹری محمد شہبازمیاں،افضل بٹ،آئی اے رحمان،شہریارخان، وسیم فاروق، اقبال چوہدری، امتیازعالم،خاورنعیم ہاشمی، افضال طالب، شفیق اعوان،انجم رشید،آصف چوہدری،رانامحمد عظیم،بیداربخت بٹ، قمرالزمان بھٹی،رضوان خالد،امجد عثمانی،خالد فاروقی،بخت گیر چوہدری، عاصمہ جہانگیر،عابد حسن منٹو،جگنومحسن ،شفقت محمود،حناجیلانی،اعجازچوہدری ا ور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حامد میر پر حملہ پوری صحافی برادری پر حملہ ہے اوریہ ثابت ہوگیاہے کہ ملک میں کوئی بھی صحافی محفوظ نہیں،حامد میر ملک کے چندنامور اور ہردلعزیز صحافیوں میں سے ایک ہیں اور اگر ملک کے اتنے بڑے شخص کے ساتھ یہ دلدوز واقعہ پیش آسکتا ہے تو ملک میں اب کوئی صحافی محفوظ نہیں رہا ۔

مقررین کا کہناتھا کہ دہشت گردعناصر کے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے صحافی بالکل گھبرانے والے نہیں ہیں،ملک میں دہشت گردی ہو یا ڈکٹیٹرشپ وہ ہرحال میں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور کسی بھی صورت میں حق بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ حکومت سندھ قانون نافذ کرنے میں ایک بارپھرناکام ہوچکی ہے اورپورے ملک میں یہ ہی صورتحال درپیش ہے ۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزموں کوفوری گرفتارکرے ورنہ خیبر سے کراچی تک ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20/04/2014 - 21:05:50 :وقت اشاعت