شیر اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا، عمران خان بادشاہ ہیں اور بادشاہ شیر ہوتا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 20/04/2014 - 16:08:57 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:56:18 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:56:18 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:47:55 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:47:55 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:44:54 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:31:31 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:31:31 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 15:08:34 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 14:44:42 وقت اشاعت: 20/04/2014 - 14:44:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

شیر اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا، عمران خان بادشاہ ہیں اور بادشاہ شیر ہوتا ہے‘ سید خورشید شاہ،ملک مزید ڈکٹیٹر برداشت نہیں کرسکتا،پاکستان کی سلامتی کیلئے سب اداروں کو پارلیمنٹ کی بالا دستی کا احترام کرنا چاہیے ،پاکستان میں اس سے پہلے کبھی اتنا اچھا گیلپ سروے نہیں آیا ، لگتا ہے ملک سے مہنگائی ، لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ، عام آدمی خوشحال ہو گیا ،حامد میر پر حملہ قابل مذمت ہے ،جس طرح کا الزام آیا حکومت اور فوج کو مل کر اس کی انکوائری کرنی چاہیے‘قائد حزب اختلاف کی گفتگو ۔ تفصیلی خبر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اپریل۔2014ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ شیر اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ہوتا، عمران خان بادشاہ ہیں اور بادشاہ شیر ہوتا ہے،ملک مزید ڈکٹیٹر برداشت نہیں کرسکتاپاکستان کی سلامتی کیلئے سب اداروں کو پارلیمنٹ کی بالا دستی کا احترام کرنا چاہیے ،حال ہی میں جو گیلپ سروے پیش کیا گیا ہے پاکستان میں اس سے پہلے کبھی اتنا اچھا گیلپ سروے نہیں آیا ، لگتا ہے ملک سے مہنگائی ، لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ہے، امن و امان کا بھی کوئی مسئلہ نہیں اور عام آدمی خوشحال ہو گیا ہے ،حامد میر پر حملہ قابل مذمت ہے اور اس میں جس طرح کا الزام آیا ہے حکومت اور فوج کو مل کر اس کی انکوائری کرنی چاہیے۔

اتوار کے روز لاہور آمد پر ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے پنو عاقل کے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے بعد انتظامیہ جائے حادثہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تلخ تجربات سے سبق سیکھا ہے، ماضی کی سیاست نہیں دہراتے،آج سیاستدان ماضی سے سبق سیکھ کر باشعور ہوچکے ہیں۔

انہوں نے حالیہ افواہوں کے حوالے سے کہا کہ فوج بھی جانتی ہے کہ اس نظام کے علاوہ ملک کے پاس اور راستہ نہیں،پاکستان میں مزید ڈکٹیٹر شپ برداشت نہیں کی جا سکتی،ملک بچانے کیلئے چھوٹی موٹی غلطیاں نظر انداز کرنی ہونگی،ماضی کی طرح نہیں ہوسکتا کہ فوج آئے اور عدلیہ ساتھ کھڑی ہو جائے۔پارلیمنٹ کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو برداشت کرنا چاہیے ۔ پاکستان کی سلامتی کے لئے سب اداروں کو پارلیمنٹ کی بالا د ستی کا احترام کرنا چاہیے ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کسی کے ساتھ نہیں میں پاکستان کے ساتھ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20/04/2014 - 15:44:54 :وقت اشاعت