مذاکرات کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا گیا اسے عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی ‘ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 18/04/2014 - 20:00:50 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 19:48:46 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 19:48:46 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 19:04:10 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 18:41:54 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 18:39:35 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 18:03:24 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 18:03:24 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 17:28:12 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 16:51:18 وقت اشاعت: 18/04/2014 - 16:51:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

مذاکرات کے علاوہ جو بھی راستہ اختیار کیا گیا اسے عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی ‘ سراج الحق،حکومت مذاکرات کے معاملے میں دو قدم آگے بڑھنے کی بجائے چار قدم پیچھے ہٹ رہی ہے جس سے اعتماد میں کمی آرہی ہے ،مذاکرات دو شریفوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی سا لمیت اور اٹھارہ کروڑ عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہے ،ایک پیج پر رہتے ہوئے مذاکرات کو کامیاب بناناچاہیے ،دونوں کے نقطہ نظر میں کوئی اختلاف بھی ہو ، تو اسے بھلا کر مذاکرات کے مسئلہ پر ایک موقف پر اکٹھے ہو جا ناچاہیے‘ اجتماع سے خطاب /پریس کانفرنس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18اپریل۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ اگر ایٹم بم کسی کو تحفظ دے سکتا تو روس ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوتا،تمام سیاسی جماعتیں سیاست اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کرقوم کو امن کی طرف لے جائیں ، حکومت کے بقیہ چار سالوں میں تمام سیاسی جماعتوں کا قوم کی خدمت کے ایجنڈے پرمتحد ہونا ضروری ہے ،امن قائم کیے بغیر معیشت بہتر ہو گی نہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے چنگل سے نجات ملے گی، مذاکرات دو شریفوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ملکی سا لمیت اور اٹھارہ کروڑ عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہے ، دونوں شریفوں کو ایک پیج پر رہتے ہوئے مذاکرات کو کامیاب بناناچاہیے اور اگر دونوں کے نقطہ نظر میں کوئی اختلاف بھی ہو ، تو اسے بھلا کر مذاکرات کے مسئلہ پر ایک موقف پر اکٹھے ہو جا ناچاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع اور منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ حکومت سنجیدگی دکھائے اور طالبان کے مطالبات تسلیم کرلے ۔ ہم نے پرائی جنگ میں کود کر پچاس ہزار جانیں قربان کیں اور ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کیا لیکن طالبان کے مطالبے پر تین سو لوگوں کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

اگر مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور بدامنی جاری رہی تو مزید جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے ۔ حکومت سنجیدگی دکھائے تو طالبان کو مزید جنگ بندی پر راضی کیا جاسکتا ہے ۔سراج الحق نے کہاکہ طالبان نے حکومتی مطالبات تسلیم کر کے امن پسندی کا ثبوت دیا اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے ۔ مذاکرات کو صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔ مذاکرات کی کامیابی امن و امان کے قیام اور ملکی سلامتی وخود مختاری کے لیے ناگزیر ہے ۔

جماعت اسلامی نے حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ بحال کر کے اپنے حصے کا کام کر دیا ،مذاکرات کو آگے بڑھانا اور کامیابی سے ہمکنار کرنا حکومت کاکام ہے ۔سراج الحق نے کہاکہ حکومت اگر مزید لاشیں گرانا اور ملک میں بدامنی اور دہشتگردی کو پھیلانا نہیں چاہتی تو اسے طالبان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ طالبان کا صرف یہی مطالبہ ہے کہ حکومت اور طالبان میں مذاکرات کے لیے ایک ایسا ” پیس زون“ ہو جہاں کسی حملے کا خطرہ نہ ہو اور تین سو کے قریب ان لوگوں کو رہا کردیا جائے جن کا عسکری کاروائیوں سے کوئی تعلق نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں ملک میں مستقل قیام امن اور دہشتگردی کے عفریت پر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18/04/2014 - 18:39:35 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان