پاکستان کی سلامتی ‘بقاء اور تحفظ کیلئے پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اپریل

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:57:12 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:43:27 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:43:27 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:33:32 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:33:32 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:33:32 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:23:18 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 16:57:10 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 16:51:29
پچھلی خبریں -

لاہور

پاکستان کی سلامتی ‘بقاء اور تحفظ کیلئے پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،پاک فوج پر جس قدر فخر کریں وہ کم ہیں‘ چوہدری محمد سرور ،مذاکرات کے نتیجے میں ایک مثبت اور پائیدار حل بہت جلد نکل آئیگا، جو شر پسندعناصر مذاکرات کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونگے ،کسی بھی ملک اور حکومت کے امیج کو سنوارنے اور نکھارنے میں سول افسران کا کردار بہت اہم ہے‘ گورنر پنجاب کا تقریب سے خطاب /میڈیا سے گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اپریل۔2014ء)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک اور حکومت کے امیج کو سنوارنے اور نکھارنے میں سول افسران کا کردار بہت اہم ہے،بیورو کریسی کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ عام آدمی کے حقوق کا خیال رکھے اور عوام کو یہ تاثر ملنا چاہیے کہ اُن کی مشکلات کے ازالے کے لئے یہ افسران عملی طور پر کام کررہے ہیں۔

اِن خیالات کا اظہار انہوں نے آج نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہومیں17th گریجوایٹ آف مڈکیریئر مینجمنٹ کورس مکمل کرنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔گورنر پنجاب نے کہا کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں اور ریاست عبارت ہوتی ہے عوام سے ، اس لیے آپ کی اولین ترجیح عوام ہی ہونی چاہیے۔ انہو ں نے کہا کہ آپ اس وقت تک عوام کے ذہنوں اور دماغوں کو نہیں جیت سکتے جب تک آپ کا رویہ اُن سے دوستانہ ، برادرانہ اور ہمدردانہ نہ ہو۔

آپ کے نزدیک اولین ترجیح ریاست اور اس سے وابستہ عوام سے ہونی چاہیے۔گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ سول افسران کو سُرخ فیتے کو ہٹا کر اپنے دروازے عوام کے لئے کھلے رکھنے چاہئیں تا کہ لوگ ان کے پاس خوفزدہ نہیں بلکہ دوستانہ ماحول میں اپنی شکایات اور معاملات کے ازالے کے لئے آئیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ سول افسران کافرض ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عوام کے حقوق کا خیال رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو توانائی، دہشت گردی اور بے روزگاری جیسے درپیش چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لئے سول افسران کو حکومت کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی کے لئے زیادہ جانفشانی اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان بحرانوں پر قابو پایا جاسکے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ ہم بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ بآسانی کر سکتے ہیں اگر ہم سب باہمی یکجہتی کے ساتھ قومی ایشوز پر یکجا ہو جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ بلاشُبہ ہم ایک پُرعز م اور بھرپور صلاحیتوں سے مالا مال قوم ہیں لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر تو کامیابی کے جھنڈے گاڑھتے ہیں مگر اجتماعی طور پر ہماری کارکردگی مثالی نہیں ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر پاکستان کے استحکام ، خوشحالی اور عزت و ناموس کے لیے بھرپور جدوجہد کرنا ہو گی کیونکہ یہ ملک ہی ہماری شناخت ہے۔

بعد ازاں ،میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے گورنر پنجاب نے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح مذاکرات ہیں اور حکومت انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کا حل چاہتی ہے او ر اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک طاقت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/04/2014 - 19:33:32 :وقت اشاعت