بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اپریل

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 11/04/2014 - 00:14:22 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 19:23:18 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 18:07:26 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 17:15:17 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 17:11:02 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 16:07:00 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 15:12:19 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 15:02:40 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 15:02:40 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 15:02:40 وقت اشاعت: 11/04/2014 - 15:01:15
- مزید خبریں

لاہور

بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ،آٹھ سالوں میں 30ارب ملیں گے‘ چیئرمین پی سی بی،اگلے آٹھ برسوں میں آئی سی سی کی ہر رکن ٹیم سے سیریز کھیلنے کے معاہدے کئے ہیں ،بھارت سے ہوم سیریز کیلئے بھی بات ہو گئی ہے،اگلے سال آئی سی سی کا صدر پاکستان نامزد کریگا، عامر کے کیس پر نظر ثانی کیلئے اینٹی کرپشن یونٹ کے قوانین کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کر ادی گئی، راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے ،عامر سہیل جہاں ہیں وہیں اچھے لگتے ہیں ،نیا آئین بنانا ہے ،ریجنل کر کٹ راتوں رات بحال نہیں ہو سکتی ،ہمیں کم ا زکم ایک ٹرم کی توسیع دینا پڑے گی ‘ نجم سیٹھی کی پریس کانفرنس۔ تفصیلی خبر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اپریل۔2014ء)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کیوجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ہے ،اگلے آٹھ برسوں میں آئی سی سی کی ہر رکن ٹیم سے سیریز کھیلنے کے معاہدے کئے ہیں جس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 30ارب روپے کا فائدہ ہوگا، بھارت سے ہوم سیریز کے لئے بھی بات ہو گئی ہے اور جلد حتمی تاریخ کی خوشخبری دیں گے، اگلے سال آئی سی سی کا صدر پاکستان نامزد کرے گا، آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر عامر کے کیس پر نظر ثانی کیلئے اینٹی کرپشن یونٹ کے قوانین کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی او رجون میں اس کا جائزہ لیا جائے گا ، راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے جبکہ عامر سہیل جہاں ہیں وہیں اچھے لگتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس کے بعد وطن واپسی پر پی سی بی ہیڈ کوارٹرمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد ‘ ذاکر خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔ پی سی بی کے چےئرمین نجم سیٹھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9جنوری کوبطور چیئرمین پی سی بی بگ تھری کامعاملہ میرے سامنے آیا، بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ ٹورز شیڈول کرلیے، 28فروری کو سنگاپور میں پتا چلا کہ بنگلہ دیش نے بگ تھری کی تجویز قبول کرلی،8فروری تک پاکستان اور سری لنکا بگ تھری کے خلاف تھے، 9ممالک ایک طرف کھڑے ہیں تو ہم اکیلے نہیں کھڑے ہوسکتے تھے۔

کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمینز کے ساتھ مشورہ کیا تھا تو فیصلہ ہوا تھا کہ قانونی پوزیشن بھی دیکھی جائے، انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کیلئے بگ تھری کی حمایت ضروری تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کریں گے۔ دبئی میں تمام بورڈز کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ 8سال کے لئے ٹورز پروگرام بنائے ہیں، تمام بورڈز کے ساتھ آئندہ 8سال کے ٹورز پر تحریری معاہدے کیے ہیں۔

ان معاہدوں کو بائنڈنگ کی شکل دینے کے لئے وکلاء ڈرافٹ تیار کریں گے جسکے بعد معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور اسکے بعد تمام شیڈول جاری کر دیا جائیگا ۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی ہے ، نو ممالک جو پہلے اپنے فیوچر پروگرام طے کر چکے تھے ہمارے اصرار پر پاکستان کے ساتھ کھیلنے کیلئے کئی ممالک نے اپنے کچھ ٹورز کینسل بھی کر دئیے ہیں جو بڑی بات ہے ۔

بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ ٹورز شیڈول کرلیے، بھارت سے سیریز طے ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں میں یہ شق شامل کی جارہی تھی کہ ہوم ٹورز کے مقابلے پاکستان کے میدانوں پرنہیں ہونگے لیکن میں نے یہ شق شامل نہیں کرنے دی اور یہ لکھوا ہے کہ یہ ٹورز دبئی یا کہیں اور ہو نگے جسکا مقصد یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے پر یہ پاکستان میں بھی ہوسکتے ہیں۔

نجم سیٹھی نے بتایا کہ بائنڈنگ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے بعد میڈیا رائٹس کی بولی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم معاہدہ نہ کرتے تو دو سال میں بورڈ دیوالیہ ہو جاتا اور ہم نے ڈومیسٹک کرکٹ کہاں سے چلانی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کئی سالوں سے ہمارے ساتھ نہیں کھیل رہا لیکن اب اس نے اسکی حامی بھر لی ہے اور یہ ایک مشکل کام تھا ۔ بھارت کو بھی پتہ ہے کہ اگر اس کا چیئرمین ہوتا ہے تو ایشیاء سے پاکستان اسکی مخالفت کرتا ہے تو یہ اسکے لئے بھی اچھی بات نہیں ۔

ہم نے واضح طو رپر کہا ہے کہ اگر ہماری سپورٹ چاہیے تو پاکستان کی بھی ماننا پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی سیریز سے تقریباً30ارب روپے ملنے ہیں جبکہ آئی سی سی سے ملنے والے فنڈز اس کے علاوہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/04/2014 - 19:23:18 :وقت اشاعت