دہشتگردی سے تباہ حالی کے باوجود خیبر پی کے میں ٹیکس ریو نیو میں تین گنا اضافہ ہو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اپریل

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/04/2014 - 22:03:03 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 21:15:57 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 21:15:57 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:48:47 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:48:47 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:48:47 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:33:22 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:33:22 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:22:50 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:17:54 وقت اشاعت: 10/04/2014 - 20:17:54
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

دہشتگردی سے تباہ حالی کے باوجود خیبر پی کے میں ٹیکس ریو نیو میں تین گنا اضافہ ہو ا‘ عمران خان کا دعویٰ ،گیلپ سروے 57فیصد عوام نے ہماری حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ،چیلنج ہے تین ماہ میں اسے 70فیصد تک لیجائینگے ، گڈ گورننس کے دعویداروں اور چھ ‘ چھ باریاں لینے والی سیاسی جماعتوں کے صوبوں میں یہ شرح 26اور 27فیصد ہے ،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انتخابات میں جانبدار امپائر کا کردار ادا کیا ،پی ٹی آئی کے سربراہ کا تقریب سے خطاب، آج بھی حکومت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہوئے ہیں ‘ شاہ محمود قریشی،سیاستدانوں کی غلطیوں کے نتائج قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں ، کرپٹ لوگوں کو عہدوں پر پہنچنے سے روکنے ہوگا ‘ جاوید ہاشمی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10اپریل۔2014ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے تباہ حالی کے باوجود خیبر پختوانخواہ میں ٹیکس ریو نیو میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے ، حالیہ گیلپ سروے میں خیبر پختوانخواہ کی 57فیصد عوام نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور میرا چیلنج ہے کہ آئندہ تین ماہ میں اسے 70فیصد تک لیجائینگے ، گڈ گورننس کے دعویداروں اور چھ ‘ چھ باریاں لینے والی سیاسی جماعتوں کے صوبوں میں یہ شرح 26اور 27فیصد ہے ،سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انتخابات میں جانبدار امپائر کا کردار ادا کیا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں تحریک انصاف کے رہنما بریگیڈئیر (ر) اسلم گھمن کی کتاب ”ہاں یہ سچ ہے “کی تقریب رونمائی سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ‘ صدر جاوید ہاشمی ‘شفقت محمود ، اعجاز چوہدری ، مراد راس ‘ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی ‘ حسن نثار ‘ اوریا مقبول جان سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

عمران خان نے کہا کہ جب دو نمبر شخص الیکشن لڑ کر اسمبلیوں میں پہنچے گا تو کیا وہ پاک صاف ہو جائے گا ؟جب تک انتخابات کا نظام صاف اور شفاف نہیں ہوتا اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ 11مہینے ہو گئے ہیں لیکن ہماری انتخابی عذر داریوں کے فیصلے نہیں ہوئے ۔ نواز شریف نے سرگودھا میں جس حلقے سے الیکشن لڑاوہاں ایک پولنگ اسٹیشن پر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1500ہے جبکہ وہاں سے 8ہزار ووٹ برآمد ہوئے ۔

اگر میں نواز شریف کی جگہ ہوتا تو میں دھاندلی میں ملوث ذمہ داران کو جیلوں میں ڈالتا ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو اہے کہ دھاندلی کے خلاف ووٹرز خود سڑکوں پر آئے اور کامیاب ہونے والے اور ہارنے والے بھی دونوں دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں۔ میں نے دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تو مجھے ہی توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے سابق چیف جسٹس سے درخواست کی کہ ہماری 65حلقوں کی درخواستیں ہیں ان میں سے صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے دوبارہ تصدیق کرا لیں ۔تو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ 20ہزار کیسز التواء کا شکار ہیں جس پر میں نے کہا کہ آپ چھوٹے چھوٹے معاملات پر سو موٹو لے لیتے ہیں لیکن ملک کی جمہوریت پر ڈاکے کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ۔

انہوں نے کہا کہ جب میں کرکٹ کھیلتا تھا تو میچ کے دوران اپنے ملک میں اپنے ہی امپائرز ذمہ داریاں نبھاتے تھے ۔ ایک دفعہ میں بھارت کی ٹیم کے خلاف بالنگ کر رہا تھا اور میری گیند پر بھارتی کھلاڑی صاف ایل بی ڈبلیو ہو گیا اور اگر کوئی اندھا بھی ہوتا تو وہ آؤٹ دے دیتا لیکن بھارتی امپائر نے میرے ساتھ آنکھیں ملانے کی بجائے آنکھیں نیچے کر لیں جس سے میں سمجھ گیا اور سابق چیف جسٹس نے بھی ایسا ہی کیا جس سے میں سمجھ گیا ۔

انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کے سو موٹو کو نوٹسز کوریویو کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اس ملک میں کرپشن روکنی ہے تو سیاستدانوں کو اپنے اثاثے ڈیکلیئر کرنا ہوں گے۔ میں نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا ہے کہ میرے اثاثے ڈیکلیئر ہیں سب سے پہلے میرے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اسکے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے ۔

اگر ہم کرپشن کو روک لیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانی پڑیگی او رنہ ہی ڈیڑھ ارب ڈالر تحفے میں لینے پڑیں گے جس کی پتہ نہیں ہمیں کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبے میں احتساب کیلئے جس طرح کا ادارہ بنا رہے ہیں وہ وفاق کے نیب کی طرح مک مکا نہیں ہوگا بلکہ یہ ادارہ احتساب کے لئے وزیر اعلیٰ اور وزیر وں سمیت کسی کو بھی کٹہرے میں لا سکے گا اور کوئی سفارش نہیں چلے گی ۔

یہاں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں جتنے مرضی قوانین بنا لئے جائیں لیکن اگر لیڈر ٹھیک نہ ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اگر لیڈر ٹھیک ہو تو قوم اسکے کردار کی وجہ سے اسکے پیچھے چلتی ہے اور ایک لیڈر اپنے کردار کی وجہ سے پورے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ڈکٹیٹر بھی صحیح نہیں آئے اور انہوں نے نہ وعدے پورے کئے اور نہ ہی قوم کو خوشحالی دی ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں احتساب کو سیاست کی نظر کر دیا گیا ہے اور احتساب کے نام پر سیاسی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ آج بھی حکومت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کرپشن آج تک عوامی مسئلہ بن کر ابھرا ہی نہیں اگر ایسا ہوتا تو لوگ کرپٹ امیدواروں کا راستہ روکتے اور ان کا انتخاب نہ کرتے ۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پر کرپشن کی روک تھام کے نام پر بنائے جانے والے تمام ادارے ناکام ہوئے ہیں ۔ حاجیوں کو لوٹنے اور این آئی سی ایل سکینڈل میں ملوث لوگ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ یہاں احتساب کرنے کے نام پر حکومتیں بنائی اور گرائی گئیں لیکن اسکے عملی نتائج نہیں نکلے ۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ سیاستدانوں کی غلطیوں کے نتائج قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں ۔ کرپٹ لوگوں کو عہدوں پر پہنچنے سے روکناہوگا ۔ حکمران بھی عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی سیاستدان بکتے ہیں اور انکے دام لگتے ہیں۔

10/04/2014 - 20:48:47 :وقت اشاعت