دہشتگردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنیوالے ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کرنا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار اپریل

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 06/04/2014 - 23:18:29 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 19:58:07 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 19:58:07 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 19:35:56 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 19:30:11 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 18:48:10 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 18:43:03 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 18:19:40 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 18:19:40 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 18:13:12 وقت اشاعت: 06/04/2014 - 15:54:12
- مزید خبریں

لاہور

دہشتگردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنیوالے ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے‘ سنی اتحاد کونسل،اسلام کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل کی اجازت نہیں دیتا ،حکمران شریعت نافذ نہ کر کے اسلام اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں،حکام کی آمد پر راستے بند کرنا غیرشرعی اور وی آئی پی کلچر خلاف اسلام ہے،سزائے موت کے قانون کو معطل رکھنا شریعت کی خلاف ورزی ہے،سنی اتحاد کونسل کے چالیس مفتیوں کا اجتماعی شرعی اعلامیہ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6اپریل۔2014ء) چیئرمین سنی اتحاد کونسل پاکستان صاحبزادہ حامد کی اپیل پر سنی اتحاد کونسل کے چالیس مفتیانِ کرام، جیّد علماء، شیوخ الحدیث اور شیوخ القرآن نے مشترکہ اجتماعی شرعی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض اختلاف رائے کی بنیاد پر صحافیوں پر حملے اور میڈیا پرسنز کے قتل کے فتوے شریعت کے منافی ہیں۔

اسلامی ریاست میں نفاذِ شریعت کے لیے مسلح جدوجہد شرعی اعتبار سے غلط ہے۔ اسلامی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت، خودکش دھماکے، پولیو ورکرز، اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے غیرشرعی ہیں۔ اسلام سکولوں کو تباہ کرنے، خواتین کو تعلیم سے روکنے، عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کی جان لینے اور قیدیوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

دہشت گردی کی سینکڑوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے اور پچاس ہزار سے زائد بے گناہوں کے قاتلوں سے مذاکرات کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کی سزا عام پاکستانیوں کو دینا شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اسلام کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ کاروکاری، عورتوں کی قرآن سے شادی اور ونی جیسی رسومات خلاف اسلام ہیں۔

سودی نظام معیشت الله اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کے مترادف ہے۔ آئین کی شق 62اور 63 پر پورا نہ اترنے والے ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنا لازمی، شرعی و آئینی تقاضا ہے۔ آئین اسلامی ریاست پاکستان کے حکمرانوں کو نفاذ شریعت کا پابند بناتا ہے اس لیے ہمارے حکمران ملک میں شریعت نافذ نہ کر کے شریعت اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسلام عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا بلکہ اسلام نے ہر عورت اور مرد کے لیے علم حاصل کرنا لازم قرار دیا ہے۔

اسلام ارتکازِ دولت اور ارتکازِ طاقت کو باطل قرار دیتا ہے۔ اسلام ضرورت سے زائد دولت تقسیم کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ جاگیرداری نظام کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ حکمرانوں کی آمد پر راستے بند کرنا غیرشرعی اور وی آئی پی کلچر خلاف اسلام ہے۔ اسلام کے مطابق عوام اور حکام برابر ہیں۔ اسلام طبقاتی نظام کا مخالف ہے۔ آئین شریعت کے تابع ہے۔

آئین کو غیراسلامی اور ریاست کے اندرونی و انتظامی ڈھانچے کو کفریہ قرار نہیں دیا جا سکتا البتہ شریعت سے متصادم قوانین کا خاتمہ حکومت کے لیے لازم ہے۔ سزائے موت کے قانون کو معطل رکھنا شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کے لیے جزا و سزا کے نظام کو موٴثر اور مستحکم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06/04/2014 - 19:58:07 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان