جماعت اسلامی کے امیر کا انتخاب عام روایتی ،قومی انتخابات سے بالکل مختلف ہوتا ہے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 31/03/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 21:38:24 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 21:00:42 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 21:00:42 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 21:00:42 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:53:32 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:53:32 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:43:32 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:43:32 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:43:32 وقت اشاعت: 31/03/2014 - 20:34:19
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

جماعت اسلامی کے امیر کا انتخاب عام روایتی ،قومی انتخابات سے بالکل مختلف ہوتا ہے ،اسے ہار جیت کا تاثر پھیلانا صحیح نہیں ‘ ترجمان

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31مارچ۔2014ء)جماعت اسلامی پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے بعض اخبارات میں امیر جماعت کے اسلامی پاکستان کے انتخاب کے حوالے سے چھپنے والی اس خبر کہ ”سیدمنورحسن اور لیاقت بلوچ کو شکست ہوئی ہے اور سراج الحق کی کامیابی منورحسن کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے “ کو خلاف واقع قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہاہے کہ جماعت اسلامی کے امیر کا انتخاب عام روایتی اور قومی انتخابات سے بالکل مختلف بلکہ اس کے الٹ ہے ۔

اس لیے ہار جیت کا تاثر پھیلانا صحیح نہیں ہے ۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہاہے کہ امیر جماعت کے انتخاب کے لیے اپنے طور پر کوئی امیدوار نہیں ہوتا بلکہ کسی میں انتخاب امیر میں حصہ لینے کی خواہش کا شائبہ بھی پایا جاتاہو تو وہ نااہل قرار پاتاہے ۔ جماعت اسلامی کے دستور کے مطابق انتخاب امیر کے لیے مرکزی مجلس شورٰی ارکان کی رہنمائی کے لیے خفیہ بیلٹ کے ذریعے تین نام تجویز کرتی ہے اور یہ تین نام بھی حروف تہجی کے حساب سے بیلٹ پیپر پر شائع کر دیے جاتے ہیں ۔

ارکان جماعت آزاد مرضی سے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ، اگر کوئی رکن ان تین ناموں کے علاوہ کسی رکن جماعت کو امارت کے لیے موزوں سمجھتا ہو تو وہ اس کو ووٹ دے سکتاہے اس لیے جب کوئی رکن جماعت اپنے طور پر امیدوار ہی نہیں بن سکتا تو شکست کا سوال کہاں سے پیدا ہوتاہے ؟۔

31/03/2014 - 20:53:32 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان