چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے طالبان سے مذاکرات پر بیس نکاتی سوال ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:04:27 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:04:27 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:04:27 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:03:46 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:02:50 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:02:50 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 21:02:50 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 20:55:16 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 20:54:22 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 20:54:22 وقت اشاعت: 19/03/2014 - 20:54:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے طالبان سے مذاکرات پر بیس نکاتی سوال نامہ پیش کر دیا ،پاکستان کا آئین ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کی اجازت نہیں دیتا اس کے باوجود دہشتگردوں سے مذاکرات کی آئینی حیثیت کیا ہے؟ ،کیا حکومت مذاکرات کے دوران طالبان سے پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کا قصاص اور حساب مانگے گی؟ ‘ صاحبزادہ حامد رضا

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مارچ۔2014ء) چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے طالبان سے مذاکرات پر حکومت سے بیس سوالوں کے جواب مانگ لیے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیس نکاتی سوال نامہ میں حکومت سے پوچھا ہے کہ پاکستان کا آئین ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کی اجازت نہیں دیتا اس کے باوجود دہشت گردوں سے مذاکرات کی آئینی حیثیت کیا ہے؟ کیا حکومت مذاکرات کے دوران طالبان سے پچاس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کا قصاص اور حساب مانگے گی؟ کیا حکومت کے لیے خطرناک قیدیوں کی رہائی، قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی، طالبان کی من پسند شریعت کے نفاذ اور آئین وقانون کو پس پشت ڈالنے جیسے طالبان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ممکن ہے؟ کیا طالبان سے مذاکراتی عمل کے دوران کوئی ضمانت موجود ہے؟ اگر ہے تو وہ کون ہے؟ اگر طالبان کسی معاہدے کو توڑیں گے تو کیا طالبان کی نامزد کمیٹی اس کی ذمہ داری قبول کرے گی؟ کیا طالبان سے مذاکرات سے پہلے پچاس ہزار سے زائد شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیا گیا ہے؟ کیا ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کر کے انہیں اہمیت دینے سے مزید بغاوتوں کا دروازہ نہیں کھلے گا؟ کیا دہشت گردوں سے مذاکرات سے پچاس ہزار سے زائد شہداء کے ورثاء کے زخم تازہ نہیں کیے جا رہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے معاملے میں دہشت گردی کا شکار ملک کے دو بڑے مکاتب فکر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے اہلسنّت اور اہل تشیع میں ریاستی ناانصافی کا احساس خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے؟ کیا دہشت گردی کی سینکڑوں کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے والوں سے مذاکرات شریعت اور آئین کے منافی نہیں ہیں؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ طالبان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

19/03/2014 - 21:02:50 :وقت اشاعت